مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ الْمَدِينَةَ . باب: دجال اور طاعون ، مدینہ میں داخل نہیں ہوں گے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ : إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ فَإِذَا بُرَيْدَةُ جَالِسٌ ، وَسَكْبَةُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَسْلَمَ قَائِمٌ يُصَلِّي الضُّحَى فَقَالَ بُرَيْدَةُ : يَا عِمْرَانُ مَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تُصَلِّيَ كَمَا يُصَلِّي سَكْبَةُ ؟ وَإِنَّمَا يَقُولُ ذَلِكَ كَأَنَّهُ يَعْنِيهِ بِهِ ، قَالَ : فَسَكَتَ عِمْرَانُ ، وَمَضَيَا ، فَقَالَ عِمَرُانُ : إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَصَعِدْنَا فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةٌ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَدْخُلَهَا يَجِدُ عَلَى كُلِّ فَجٍّ مِنْهَا مَلَكًا مُصْلِتًا بِالسَّيْفِ " ، ثُمَّ نَزَلْنَا فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، قُلْتُ : فُلَانٌ ، وَمِنْ أَمْرِهِ ، فَجَعَلْتُ أُثْنِي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " لَا تُسْمِعْهُ فَتَقْطَعَ ظَهْرَهُ " ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيَّ فَقَالَ : " خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ہم مسجد بصرہ پہنچے وہاں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا سکبہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ کھڑے ہوئے چاشت کی نماز ادا کر رہے تھے تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمران کیا آپ یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ آپ اس طرح نماز ادا کریں جس طرح سکبہ نماز ادا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے یہ بات کہی اور ان کی ذات مراد لی تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ خاموش رہے پھر یہ دونوں حضرات چلے گئے تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا احد پہاڑ ہمارے سامنے آیا ہم اس پر چڑھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : اس کی ماں کی بربادی ہے یہ ایک بستی ہے ، جسے اس کے رہنے والے چھوڑ جائیں گے اور یہ سب سے عمدہ بستی ہے ، جو ہو سکتی ہے دجال اس کے پاس آئے گا لیکن اس میں داخل نہیں ہو سکے گا وہ اس کے ہر راستے پر ایک فرشتے کو تلوار سونت کر کھڑا ہوا پائے گا راوی کہتے ہیں : پھر ہم پہاڑ سے نیچے اترے اور مسجد میں آ گئے وہاں ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا آپ نے دریافت کیا : یہ کون ہے میں نے عرض کی : یہ فلاں ہے اور اس کے معاملے کا ذکر کیا اور اس کی تعریف بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( تم یہ تعریف ) اسے نہ سنانا ورنہ تم اس کی پشت کاٹ دو گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا : تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے ، جو سب سے زیادہ آسان ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔