حدیث نمبر: 5829
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ ، وَنَحْنُ مَعَهُ فَقَالَ : " نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ لَا يَدْخُلُهَا فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ رَجَفَتِ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ ، وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ ، وَأَكْثَرُ - يَعْنِي : مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ - النِّسَاءُ ، وَذَلِكَ يَوْمَ التَّخْلِيصِ يَوْمَ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٍ ، وَسَيْفٍ مُحَلَّى فَيَضْرِبُ قُبَّتَهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي بِمُجْتَمَعِ السُّيُولِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ ، وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ مَا لَا أَخْبَرَ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ " . قِيلَ : ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا ، وَيَنْصَعُ طِيبُهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھریلی زمین کی طرف دیکھا ہم آپ کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا : مدینہ بہترین سرزمین ہے جب دجال نکلے گا تو مدینے کے ہر راستے پر فرشتہ موجود ہو گا اور دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا جب وہ وقت آئے گا تو مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا تو ہر منافق مرد اور منافق عورت نکل کر دجال کی طرف چلے جائیں گے اور اس کی طرف جانے والوں میں زیادہ تر خواتین ہوں گی یہ خلاصی کا دن ہو گا جب مدینہ اپنے میل کو یوں نکال دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ ) کو نکال دیتی ہے دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے جن میں سے ہر ایک شخص پر سبز چادر اور آراستہ تلوار ہو گی ، وہ ( یعنی دجال ) اپنا خیمہ اس جگہ پر لگائے گا جہاں نالوں کا پانی اکٹھا ہوتا ہے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی فتنہ ایسا نہیں گزرا اور قیامت ہونے تک کوئی بھی ایسا فتنہ نہیں ہو گا جو دجال کے فتنے سے زیادہ بڑا ہو ، ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے اور میں تم لوگوں کو ایک ایسی بات بتانے لگا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی اس بارے میں آپ سے گزارش کی گئی تو آپ نے اپنا دست مبارک اپنی آنکھ پر رکھا اور پھر ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ دجال کانا ہو گا ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے : ” مدینہ منورہ بھٹی کی مانند ہے ، جو میل کو نکال دیتی ہے اور صاف چیز کو نکھار دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 5830
وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلَفْظُهُ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ اذْكُرُوا يَوْمَ الْخَلَاصِ " ، قَالُوا : وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ قَالَ : " يُقْبِلُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَنْزِلَ بِذُبَابٍ فَلَا يَبْقَى فِي الْمَدِينَةِ مُشْرِكٌ ، وَلَا مُشْرِكَةٌ وَلَا كَافِرٌ وَلَا كَافِرَةٌ ، وَلَا مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ ، وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ ، وَيَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ فَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ " ، قَالَ : الْحَدِيثَ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اہل مدینہ خلاصی کے دن کو یاد کرو ! لوگوں نے عرض کی : خلاصی کے دن سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دجال آئے گا اور ” ذباب “ کے مقام پر پڑاؤ کرے گا اس وقت مدینہ منورہ میں موجود ہر مشرک مرد اور مشرک عورت کافر مرد اور کافر عورت منافق مرد اور منافق عورت فاسق مرد اور فاسق عورت نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے اور صرف مسلمان رہ جائیں گے تو یہ خالص ہونے کا دن ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ الحدیث ۔
امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5831
وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ خَطَبَ النَّاسَ وَ ] قَالَ : " يَوْمُ الْخَلَاصِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ يَوْمُ الْخَلَاصِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ [ يَوْمُ الْخَلَاصِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ ] ثَلَاثًا " ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ قَالَ : " يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَصْعَدُ أُحُدًا فَيَقُولُ لِأَصْحَابِهِ : أَتَرُونَ هَذَا الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ ؟ هَذَا مَسْجِدُ أَحْمَدَ ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكًا مُصْلِتًا فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجَرْفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَلَا يَبْقَى مُنَافِقٌ ، وَلَا مُنَافِقَةٌ ، وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ ، فَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’ خالص ہونے کا دن خالص ہونے کا دن کیا ہے خالص ہونے کا دن خالص ہونے کا دن کیا ہے خالص ہونے کا دن خالص ہونے کا دن کیا ہے ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی عرض کی گئی خالص ہونے کا دن کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال آئے گا وہ اُحد پہاڑ پر چڑھے گا اور اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا تم اس سفید محل کو دیکھ رہے ہو یہ سیدنا أحمد کی مسجد ہے پھر وہ مدینہ آئے گا تو مدینے کے ہر راستے پر فرشتے کو پائے گا ، جس نے تلوار سونتی ہوئی ہو گی ، پھر وہ جرف کی شور زدہ زمین پر آئے گا اور رواق مارے گا پھر مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا ، تو کوئی منافق مرد یا منافق عورت یا کوئی فاسق مرد یا فاسق عورت نہیں رہیں گے مگر یہ کہ وہ نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے تو یہ خلاصی کا ( یا خالص ہونے کا ) دن ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5832
وَفِي رِوَايَةٍ رَوَاهَا أَحْمَدُ أَيْضًا عَنْ رَجَاءٍ قَالَ : كَانَ بُرَيْدَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَمَرَّ مِحْجَنٌ عَلَيْهِ ، وَسَكْبَةُ يُصَلِّي فَقَالَ بُرَيْدَةُ - وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ - لِمِحْجَنٍ : أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي هَذَا ؟ فَقَالَ مِحْجَنٌ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ بِيَدِي فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةٌ يَدَعُهَا أَهْلُهَا خَيْرُ مَا تَكُونُ ، فَيَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا بِجَنَاحِهِ فَلَا يَدْخُلُهَا " ، قَالَ : ثُمَّ [ نَزَلَ وَهُوَ ] آخِذٌ بِيَدِي فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَالَ لِي : " مَنْ هَذَا ؟ " ، [ فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ ] فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ : " اسْكُتْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكْهُ " ، قَالَ : ثُمَّ أَتَى حُجْرَةَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَنَفَضَ يَدَهُ مِنْ يَدِي قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا رَجَاءٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں ، جسے امام أحمد نے ہی رجاء کے حوالے سے نقل کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر موجود تھے سیدنا محجن رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے سیدنا سکبہ رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ جن کے مزاج میں شوخی پائی جاتی تھی ۔ انہوں نے سیدنا محجن رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ اس طرح نماز ادا نہیں کرتے ہیں جس طرح یہ شخص ( خشوع و خضوع کے ساتھ ) نماز ادا کر رہا ہے ؟ تو سیدنا محجن رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ میرا ہاتھ پکڑا آپ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا : اس کی ماں کے لیے بربادی ہے ، یہ ایک ایسی بستی ہے ، جس کے رہنے والے اسے چھوڑ جائیں گے اور یہ سب سے بہتر چیز ہے دجال اس کے پاس آئے گا وہ اس کے ہر دروازے پر فرشتے کو پائے گا ، جس نے اپنے پر کو سونتا ہوا ہو گا ، اور وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا آپ مسجد میں داخل ہوئے ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا آپ نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کون ہے میں اس کے پاس گیا پھر میں نے اس کی تعریف بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم خاموش ہو جاؤ تم یہ بات اسے نہ سنانا ورنہ تم اسے ہلاکت کا شکار کر دو گے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں ایک خاتون کے حجرے کے پاس آئے آپ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے الگ کیا اور فرمایا : تمہارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے ، جو زیادہ آسان ہو ۔ تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے ، جو زیادہ آسان ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف رجاء نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف رجاء نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5833
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَدِينَتِهِمْ ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ ، وَبَارِكْ فِي مُدِّهِمْ ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ ، وَخَلِيلُكَ ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ كَمَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشَبَّكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ ، وَلَا الدَّجَّالُ مَنْ أَرَادَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبداللہ قراظ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! اہل مدینہ کے لئے ان کے شہر میں برکت رکھ دے اور ان کے صاع میں ان کے لئے برکت رکھ دے اور ان کے مد میں ان کے لئے برکت رکھ دے اے اللہ ! سیدنا ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل تھے اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے اہل مکہ کے لئے دعا مانگی تھی اور میں تجھ سے اہل مدینہ کے لئے دعا مانگتا ہوں جو اس کی مانند ہے ، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لئے مانگی تھی اور اس کے ہمراہ مزید ہو ، بے شک مدینہ ملائکہ کے گھیرے میں ہے اس کے ہر راستے پر دو فرشتے موجود ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اس میں طاعون داخل نہیں ہو سکتا اور دجال داخل نہیں ہو سکتا جو شخص اس کے بارے میں برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالی اسے ( جہنم کی آگ میں ) یوں گھول دے گا جس طرح نمک پانی میں حل ہو جاتا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5834
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ وَمَكَّةُ مَحْفُوفَتَانِ بِالْمَلَائِكَةِ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكٌ لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مدینہ اور مکہ فرشتوں کے ذریعے ڈھانپے ہوئے ہیں ان کے ہر راستے پر فرشتہ موجود ہے ان میں دجال اور طاعون داخل نہیں ہوں گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5835
وَعَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يُقَالُ لَهُ : عِيَاضٌ ، وَكَانَتْ ابِنْةُ أُسَامَةَ تَحْتَهُ قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ خَرَجَ مِنْ بَعْضِ الْأَرْيَافِ حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَصَابَهُ الْوَبَاءُ فَأَفْزَعَ النَّاسَ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ [ لَا ] يَطْلُعَ عَلَيْنَا نِقَابَهَا " - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُتَّصِلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے چچازاد ، جن کا نام عیاض تھا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ان کی اہلیہ تھیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا ، جو کسی سرسبز علاقے سے نکلا جب وہ مدینہ منورہ کے قریب راستے میں کسی جگہ پر پہنچا ، تو اسے وباء نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اس نے لوگوں کو پریشان کر دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ توقع ہے کہ وہ اس کے راستے سے ہمارے سامنے نہیں آئے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ منورہ ( کا راستہ ) تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اسے ان کے صاحبزادے عبداللہ نے بھی روایت کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے متصل سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اسے ان کے صاحبزادے عبداللہ نے بھی روایت کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے متصل سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5836
وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ طَيْبَةَ الْمَدِينَةُ ، وَمَا مِنْ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ جَدِّهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک مدینہ پاکیزہ ہے ، اس کے ہر راستے پر فرشتہ تلوار سونت کر کھڑا ہوا ہے ، اس میں دجال کبھی داخل نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عمر بن یزید کی اپنے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عمر بن یزید کی اپنے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 5837
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ : إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ فَإِذَا بُرَيْدَةُ جَالِسٌ ، وَسَكْبَةُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَسْلَمَ قَائِمٌ يُصَلِّي الضُّحَى فَقَالَ بُرَيْدَةُ : يَا عِمْرَانُ مَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تُصَلِّيَ كَمَا يُصَلِّي سَكْبَةُ ؟ وَإِنَّمَا يَقُولُ ذَلِكَ كَأَنَّهُ يَعْنِيهِ بِهِ ، قَالَ : فَسَكَتَ عِمْرَانُ ، وَمَضَيَا ، فَقَالَ عِمَرُانُ : إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَصَعِدْنَا فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةٌ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَدْخُلَهَا يَجِدُ عَلَى كُلِّ فَجٍّ مِنْهَا مَلَكًا مُصْلِتًا بِالسَّيْفِ " ، ثُمَّ نَزَلْنَا فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، قُلْتُ : فُلَانٌ ، وَمِنْ أَمْرِهِ ، فَجَعَلْتُ أُثْنِي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " لَا تُسْمِعْهُ فَتَقْطَعَ ظَهْرَهُ " ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيَّ فَقَالَ : " خَيْرُ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ہم مسجد بصرہ پہنچے وہاں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا سکبہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ کھڑے ہوئے چاشت کی نماز ادا کر رہے تھے تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمران کیا آپ یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ آپ اس طرح نماز ادا کریں جس طرح سکبہ نماز ادا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے یہ بات کہی اور ان کی ذات مراد لی تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ خاموش رہے پھر یہ دونوں حضرات چلے گئے تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا احد پہاڑ ہمارے سامنے آیا ہم اس پر چڑھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : اس کی ماں کی بربادی ہے یہ ایک بستی ہے ، جسے اس کے رہنے والے چھوڑ جائیں گے اور یہ سب سے عمدہ بستی ہے ، جو ہو سکتی ہے دجال اس کے پاس آئے گا لیکن اس میں داخل نہیں ہو سکے گا وہ اس کے ہر راستے پر ایک فرشتے کو تلوار سونت کر کھڑا ہوا پائے گا راوی کہتے ہیں : پھر ہم پہاڑ سے نیچے اترے اور مسجد میں آ گئے وہاں ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا آپ نے دریافت کیا : یہ کون ہے میں نے عرض کی : یہ فلاں ہے اور اس کے معاملے کا ذکر کیا اور اس کی تعریف بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( تم یہ تعریف ) اسے نہ سنانا ورنہ تم اس کی پشت کاٹ دو گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا : تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے ، جو سب سے زیادہ آسان ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5838
وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَةٍ ثُمَّ عَرَضَ لِي ، وَأَنَا خَارِجٌ فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى صَعِدْنَا عَلَى أُحُدٍ فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةٌ يَدَعُهَا أَهْلُهَا كَأَيْنَعَ مَا تَكُونُ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ يَأْكُلُ ثَمَرَهَا ؟ قَالَ : " عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ ، وَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَلْقَاهُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا مَلَكٌ فَيَصُدُّهُ " ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَابِ الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي قَالَ : " يَقُولُهُ صَادِقًا ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا فُلَانٌ أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً ، قَالَ : " لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ " ، قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں بھیجا پھر آپ میرے سامنے آئے میں اس وقت مدینے کے راستے سے باہر نکل رہا تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ہم چلتے ہوئے گئے یہاں تک کہ ہم احد پہاڑ پر چڑھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا : اس کی ماں برباد ہو یہ ایک ایسی بستی ہے ، جس کے رہنے والے اسے ایسی حالت میں چھوڑ جائیں گے ، جب اس کے پھل اتارنے کا وقت آ چکا ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا پھل کون کھائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پرندے اور درندے ( کھائیں گے ) لیکن دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا وہ جب بھی اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرے گا تو اس کے راستے میں ایک فرشتہ آئے گا اور اسے روک دے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے یہاں تک کہ جب ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے تو وہاں ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ سچے دل کے ساتھ یہ پڑھ رہا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ا یہ فلاں شخص ہے ، جو مدینہ میں سب سے زیادہ نماز پڑھتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ بات اسے نہ سنا دینا ورنہ تم اسے ہلاکت کا شکار کر دو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس حدیث کا ایک طریق گزر چکا ہے ، جسے امام أحمد نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس حدیث کا ایک طریق گزر چکا ہے ، جسے امام أحمد نے روایت کیا ہے ۔