مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ الْمَدِينَةَ . باب: دجال اور طاعون ، مدینہ میں داخل نہیں ہوں گے
وَفِي رِوَايَةٍ رَوَاهَا أَحْمَدُ أَيْضًا عَنْ رَجَاءٍ قَالَ : كَانَ بُرَيْدَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَمَرَّ مِحْجَنٌ عَلَيْهِ ، وَسَكْبَةُ يُصَلِّي فَقَالَ بُرَيْدَةُ - وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ - لِمِحْجَنٍ : أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي هَذَا ؟ فَقَالَ مِحْجَنٌ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ بِيَدِي فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ : " وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةٌ يَدَعُهَا أَهْلُهَا خَيْرُ مَا تَكُونُ ، فَيَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا بِجَنَاحِهِ فَلَا يَدْخُلُهَا " ، قَالَ : ثُمَّ [ نَزَلَ وَهُوَ ] آخِذٌ بِيَدِي فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَالَ لِي : " مَنْ هَذَا ؟ " ، [ فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ ] فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ : " اسْكُتْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكْهُ " ، قَالَ : ثُمَّ أَتَى حُجْرَةَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَنَفَضَ يَدَهُ مِنْ يَدِي قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا رَجَاءٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤ایک روایت میں ، جسے امام أحمد نے ہی رجاء کے حوالے سے نقل کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر موجود تھے سیدنا محجن رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے سیدنا سکبہ رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ جن کے مزاج میں شوخی پائی جاتی تھی ۔ انہوں نے سیدنا محجن رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ اس طرح نماز ادا نہیں کرتے ہیں جس طرح یہ شخص ( خشوع و خضوع کے ساتھ ) نماز ادا کر رہا ہے ؟ تو سیدنا محجن رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ میرا ہاتھ پکڑا آپ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا : اس کی ماں کے لیے بربادی ہے ، یہ ایک ایسی بستی ہے ، جس کے رہنے والے اسے چھوڑ جائیں گے اور یہ سب سے بہتر چیز ہے دجال اس کے پاس آئے گا وہ اس کے ہر دروازے پر فرشتے کو پائے گا ، جس نے اپنے پر کو سونتا ہوا ہو گا ، اور وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا آپ مسجد میں داخل ہوئے ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا آپ نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کون ہے میں اس کے پاس گیا پھر میں نے اس کی تعریف بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم خاموش ہو جاؤ تم یہ بات اسے نہ سنانا ورنہ تم اسے ہلاکت کا شکار کر دو گے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں ایک خاتون کے حجرے کے پاس آئے آپ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے الگ کیا اور فرمایا : تمہارے دین میں سب سے بہتر وہ ہے ، جو زیادہ آسان ہو ۔ تمہارے دین میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے ، جو زیادہ آسان ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف رجاء نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔