حدیث نمبر: 5831
وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ خَطَبَ النَّاسَ وَ ] قَالَ : " يَوْمُ الْخَلَاصِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ يَوْمُ الْخَلَاصِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ [ يَوْمُ الْخَلَاصِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ ] ثَلَاثًا " ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ قَالَ : " يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَصْعَدُ أُحُدًا فَيَقُولُ لِأَصْحَابِهِ : أَتَرُونَ هَذَا الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ ؟ هَذَا مَسْجِدُ أَحْمَدَ ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكًا مُصْلِتًا فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجَرْفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَلَا يَبْقَى مُنَافِقٌ ، وَلَا مُنَافِقَةٌ ، وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ ، فَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’ خالص ہونے کا دن خالص ہونے کا دن کیا ہے خالص ہونے کا دن خالص ہونے کا دن کیا ہے خالص ہونے کا دن خالص ہونے کا دن کیا ہے ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی عرض کی گئی خالص ہونے کا دن کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال آئے گا وہ اُحد پہاڑ پر چڑھے گا اور اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا تم اس سفید محل کو دیکھ رہے ہو یہ سیدنا أحمد کی مسجد ہے پھر وہ مدینہ آئے گا تو مدینے کے ہر راستے پر فرشتے کو پائے گا ، جس نے تلوار سونتی ہوئی ہو گی ، پھر وہ جرف کی شور زدہ زمین پر آئے گا اور رواق مارے گا پھر مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا ، تو کوئی منافق مرد یا منافق عورت یا کوئی فاسق مرد یا فاسق عورت نہیں رہیں گے مگر یہ کہ وہ نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے تو یہ خلاصی کا ( یا خالص ہونے کا ) دن ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5831
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (338/4)»