مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ الْمَدِينَةَ . باب: دجال اور طاعون ، مدینہ میں داخل نہیں ہوں گے
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَدِينَتِهِمْ ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ ، وَبَارِكْ فِي مُدِّهِمْ ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ ، وَخَلِيلُكَ ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ كَمَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشَبَّكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ ، وَلَا الدَّجَّالُ مَنْ أَرَادَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوعبداللہ قراظ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! اہل مدینہ کے لئے ان کے شہر میں برکت رکھ دے اور ان کے صاع میں ان کے لئے برکت رکھ دے اور ان کے مد میں ان کے لئے برکت رکھ دے اے اللہ ! سیدنا ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل تھے اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے اہل مکہ کے لئے دعا مانگی تھی اور میں تجھ سے اہل مدینہ کے لئے دعا مانگتا ہوں جو اس کی مانند ہے ، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لئے مانگی تھی اور اس کے ہمراہ مزید ہو ، بے شک مدینہ ملائکہ کے گھیرے میں ہے اس کے ہر راستے پر دو فرشتے موجود ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اس میں طاعون داخل نہیں ہو سکتا اور دجال داخل نہیں ہو سکتا جو شخص اس کے بارے میں برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالی اسے ( جہنم کی آگ میں ) یوں گھول دے گا جس طرح نمک پانی میں حل ہو جاتا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔