مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ الْمَدِينَةَ . باب: دجال اور طاعون ، مدینہ میں داخل نہیں ہوں گے
وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلَفْظُهُ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ اذْكُرُوا يَوْمَ الْخَلَاصِ " ، قَالُوا : وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ؟ قَالَ : " يُقْبِلُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَنْزِلَ بِذُبَابٍ فَلَا يَبْقَى فِي الْمَدِينَةِ مُشْرِكٌ ، وَلَا مُشْرِكَةٌ وَلَا كَافِرٌ وَلَا كَافِرَةٌ ، وَلَا مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ ، وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ ، وَيَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ فَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ " ، قَالَ : الْحَدِيثَ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اہل مدینہ خلاصی کے دن کو یاد کرو ! لوگوں نے عرض کی : خلاصی کے دن سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دجال آئے گا اور ” ذباب “ کے مقام پر پڑاؤ کرے گا اس وقت مدینہ منورہ میں موجود ہر مشرک مرد اور مشرک عورت کافر مرد اور کافر عورت منافق مرد اور منافق عورت فاسق مرد اور فاسق عورت نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے اور صرف مسلمان رہ جائیں گے تو یہ خالص ہونے کا دن ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ الحدیث ۔
امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔