مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ الْمَدِينَةَ . باب: دجال اور طاعون ، مدینہ میں داخل نہیں ہوں گے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ ، وَنَحْنُ مَعَهُ فَقَالَ : " نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ لَا يَدْخُلُهَا فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ رَجَفَتِ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ ، وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ ، وَأَكْثَرُ - يَعْنِي : مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ - النِّسَاءُ ، وَذَلِكَ يَوْمَ التَّخْلِيصِ يَوْمَ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٍ ، وَسَيْفٍ مُحَلَّى فَيَضْرِبُ قُبَّتَهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي بِمُجْتَمَعِ السُّيُولِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ ، وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ مَا لَا أَخْبَرَ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ " . قِيلَ : ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا ، وَيَنْصَعُ طِيبُهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھریلی زمین کی طرف دیکھا ہم آپ کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا : مدینہ بہترین سرزمین ہے جب دجال نکلے گا تو مدینے کے ہر راستے پر فرشتہ موجود ہو گا اور دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا جب وہ وقت آئے گا تو مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا تو ہر منافق مرد اور منافق عورت نکل کر دجال کی طرف چلے جائیں گے اور اس کی طرف جانے والوں میں زیادہ تر خواتین ہوں گی یہ خلاصی کا دن ہو گا جب مدینہ اپنے میل کو یوں نکال دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ ) کو نکال دیتی ہے دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے جن میں سے ہر ایک شخص پر سبز چادر اور آراستہ تلوار ہو گی ، وہ ( یعنی دجال ) اپنا خیمہ اس جگہ پر لگائے گا جہاں نالوں کا پانی اکٹھا ہوتا ہے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی فتنہ ایسا نہیں گزرا اور قیامت ہونے تک کوئی بھی ایسا فتنہ نہیں ہو گا جو دجال کے فتنے سے زیادہ بڑا ہو ، ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے اور میں تم لوگوں کو ایک ایسی بات بتانے لگا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی اس بارے میں آپ سے گزارش کی گئی تو آپ نے اپنا دست مبارک اپنی آنکھ پر رکھا اور پھر ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ دجال کانا ہو گا ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے : ” مدینہ منورہ بھٹی کی مانند ہے ، جو میل کو نکال دیتی ہے اور صاف چیز کو نکھار دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔