مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَحْدَثَ بِالْمَدِينَةِ حَدَثًا . باب: جو شخص مدینہ منورہ میں کوئی بدعت ایجاد کرتا ہے
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ; لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ; لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، وَمَنْ أَحْدَثَ فِي مَدِينَتِي هَذِهِ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ; لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ فِي الْيَمِينِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤سیدنا ابوامامہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے حقیقی آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہو گی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی جو شخص میرے اس منبر پر جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے وہ شخص کسی مسلمان کے مال کا ناحق طور پر حق دار بن جائے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہو گی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی اور جو شخص میرے اس شہر میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ تعالیٰ تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہو گی اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو قسم اٹھانے کے بارے میں ہے اور وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔