حدیث نمبر: 5806
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ قَالَ : دَخَلْتُ الْأَسْوَافَ فَأَثَرْتُ - قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ مَرَّةً : فَأَخَذْتُ - دُبْسِيَّيْنِ ، قَالَ : وَأُمُّهُمَا تُرَشْرِشُ عَلَيْهِمَا ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آخُذَهُمَا قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيَّ أَبُو حَسَنٍ فَأَخَذَ مِتْيَخَةً فَضَرَبَنِي بِهَا ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَّا - يُقَالُ لَهَا : مَرْيَمُ : لَقَدْ تَعِسْتُ مِنْ عَضُدِهِ مِنْ تَكْسِيرِ الْمِتْيَخَةِ ، قَالَ : وَقَالَ لِي : أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

یحیی بن عمارہ نے اپنے دادا ابوحسن کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں اسواف میں داخل ہوا میں نے ” دبسی “ نام کے دو پرندے پکڑے ، راوی کہتے ہیں : ان کی ماں ان دونوں پر منڈلا رہی تھی میں اس کو پکڑنے لگا ، تو اسی دوران ابوحسن میرے پاس آئے ۔ انہوں نے چھڑی لے کر اس کے ذریعے مجھے مارا ، تو ہمارے قبیلے کی ایک خاتون جس کا نام مریم تھا اس نے کہا: کیا آپ اس کو چھڑیاں مار کے اس کا بازو توڑ دیں گے ؟ پھر ابوحسن نے مجھ سے کہا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مسند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (395/22) رواه عبد الله بن احمد فى زوائد المسند (77/4)»