حدیث نمبر: 5752
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنِ ابْعَثِي إِلَيَّ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا أَبْعَثُ بِهِ إِلَيْكَ ، فَقَالَ قَائِلٌ : ابْعَثْ إِلَيْهَا قَسْرًا ، فَقَالَ ابْنُهَا عُثْمَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ ، فَابْعَثْنِي إِلَيْهَا حَتَّى آتِيكَ ، قَالَ : فَذَهَبَ إِلَيْهَا فَقَالَ : يَا أُمَّتَاهُ إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرٌ غَيْرُ الَّذِي كَانَ ، وَإِنَّهُ إِنْ لَمْ تُعْطِنِي الْمِفْتَاحَ قُتِلْتِ ، قَالَ : فَأَخْرَجَتْهُ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ ، فَجَاءَ بِهِ يَسْعَى ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَثَرَ فَابْتَدَرَ الْمِفْتَاحُ مِنْ يَدِهِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَثَا عَلَيْهِ بِثَوْبِهِ فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْبَابِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : فَفَتَحَهُ - ثُمَّ قَامَ عِنْدَ أَرْكَانِ الْبَيْتِ ، وَأَرْجَائِهِ يَدْعُو ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو پیغام بھیجا کہ تم خانہ کعبہ کی چابی میری طرف بھیجوا دو اس خاتون نے کہا: لات اور عزی کی قسم ہے میں وہ آپ کی طرف نہیں بھجواؤں گی کسی شخص نے کہا: آپ قسر کو اس کی طرف بھیجیں ، اس خاتون کے صاحبزادے عثمان نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ زمانہ کفر کے قریب ہے آپ مجھے ان کی طرف بھیجیں میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں پھر وہ صاحب اس خاتون کی طرف چلے گئے ۔ انہوں نے کہا: اے امی جان اب اس طرح کی صورت حال نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی اگر آپ نے مجھے چابی نہ دی تو آپ کو قتل کر دیا جائے گا راوی کہتے ہیں : تو اس خاتون نے چابی نکالی اور ان کو دے دی وہ اسے لے کر دوڑتے ہوئے آئے جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہیں ٹھوکر لگی اور چابی ان کے ہاتھ سے نکل گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اپنا کپڑا اس پر ڈالا اور اسے پکڑ لیا پھر آپ دروازے کے پاس آئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : آپ نے اسے کھولا پھر آپ خانہ کعبہ کے کونوں کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ نے دعا کی اور پھر آپ نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت ادا کیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زید بن عوف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5752
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1162)»