حدیث نمبر: 5749
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ : وُجَاهَكَ حِينَ يَدْخُلُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں دو رکعات نماز ادا کی تھیں ۔ حسن نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جب آپ داخل ہوں تو بالکل سامنے کے دو ستونوں کے درمیان ( نماز ادا کی تھی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5750
وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ : خَرَجْتُ حَاجًّا فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ السَّارِيَتَيْنِ مَضَيْتُ حِينَ لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ ، وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَصَلَّى أَرْبَعًا قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى قُلْتُ لَهُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَيْتِ ؟ قَالَ : هَاهُنَا أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ صَلَّى ، فَقُلْتُ لَهُ : فَكَمْ صَلَّى ؟ قَالَ : عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي إِنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمْرًا ثُمَّ لَمْ أَسْأَلْهُ : كَمْ صَلَّى ؟ قَالَ : فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ خَرَجْتُ حَاجًّا ، قَالَ : فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ قَالَ : فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِمَعْنَاهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوشعثاء بیان کرتے ہیں : میں حج کرنے کے لئے نکلا میں بیت اللہ میں داخل ہوا جب میں دو ستونوں کے پاس پہنچا تو میں آگے بڑھ گیا اور میں نے اپنے آپ کو دیوار کے ساتھ چمٹا لیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لائے وہ میرے پہلو میں کھڑے ہو گئے ۔ انہوں نے چار رکعت ادا کیں راوی بیان کرتے ہیں : جب انہوں نے نماز ادا کر لی تو میں نے ان سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں کہاں نماز ادا کی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نماز ادا کی تھی میں نے ان سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی تھیں ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں ہمیشہ اپنے آپ کو اس بات پر ملامت کرتا ہوں کہ میں ایک طویل عرصے تک سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا لیکن میں نے ان سے پھر بھی یہ سوال نہیں کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی نماز ادا کی تھی رادی بیان کرتے ہیں : اگلے سال میں حج کرنے کے لئے گیا میں آیا اور اس جگہ پر کھڑا ہوا تو اسی دوران سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تشریف لے آئے وہ میرے پہلو میں آ کے کھڑے ہو گئے اور وہ مسلسل میرے ساتھ مزاحمت کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھے اس جگہ سے ہٹا دیا اور پھر اس جگہ پر چار رکعت ادا کیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس مفہوم کی روایت نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس مفہوم کی روایت نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5751
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَدِمَ مَكَّةَ ، فَدَخَلَ الْكَعْبَةَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى [ ابْنِ ] عُمَرَ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : صَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ بِحِيَالِ الْبَابِ فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَرَجَّ الْبَابَ رَجًّا شَدِيدًا ، فَفُتِحَ لَهُ ، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ : [ أَمَا إِنَّكَ ] قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي [ كُنْتُ ] أَعْلَمُ مِثْلَ الَّذِي يَعْلَمُ ، وَلَكِنَّكَ حَسَدْتَنِي ! ! . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدَ ، وَرِجَاَلُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ آئے وہ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے ۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز ادا کی تھی ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : دروازے کے مد مقابل دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی پھر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما آ گئے ۔ انہوں نے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا دروازہ کھول دیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں بھی اس طرح علم رکھتا ہوں جس طرح وہ علم رکھتے ہیں لیکن آپ نے مجھ سے حسد کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5752
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أُمِّ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنِ ابْعَثِي إِلَيَّ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا أَبْعَثُ بِهِ إِلَيْكَ ، فَقَالَ قَائِلٌ : ابْعَثْ إِلَيْهَا قَسْرًا ، فَقَالَ ابْنُهَا عُثْمَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ ، فَابْعَثْنِي إِلَيْهَا حَتَّى آتِيكَ ، قَالَ : فَذَهَبَ إِلَيْهَا فَقَالَ : يَا أُمَّتَاهُ إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرٌ غَيْرُ الَّذِي كَانَ ، وَإِنَّهُ إِنْ لَمْ تُعْطِنِي الْمِفْتَاحَ قُتِلْتِ ، قَالَ : فَأَخْرَجَتْهُ فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ ، فَجَاءَ بِهِ يَسْعَى ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَثَرَ فَابْتَدَرَ الْمِفْتَاحُ مِنْ يَدِهِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَثَا عَلَيْهِ بِثَوْبِهِ فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْبَابِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : فَفَتَحَهُ - ثُمَّ قَامَ عِنْدَ أَرْكَانِ الْبَيْتِ ، وَأَرْجَائِهِ يَدْعُو ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو پیغام بھیجا کہ تم خانہ کعبہ کی چابی میری طرف بھیجوا دو اس خاتون نے کہا: لات اور عزی کی قسم ہے میں وہ آپ کی طرف نہیں بھجواؤں گی کسی شخص نے کہا: آپ قسر کو اس کی طرف بھیجیں ، اس خاتون کے صاحبزادے عثمان نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ زمانہ کفر کے قریب ہے آپ مجھے ان کی طرف بھیجیں میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں پھر وہ صاحب اس خاتون کی طرف چلے گئے ۔ انہوں نے کہا: اے امی جان اب اس طرح کی صورت حال نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی اگر آپ نے مجھے چابی نہ دی تو آپ کو قتل کر دیا جائے گا راوی کہتے ہیں : تو اس خاتون نے چابی نکالی اور ان کو دے دی وہ اسے لے کر دوڑتے ہوئے آئے جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہیں ٹھوکر لگی اور چابی ان کے ہاتھ سے نکل گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اپنا کپڑا اس پر ڈالا اور اسے پکڑ لیا پھر آپ دروازے کے پاس آئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : آپ نے اسے کھولا پھر آپ خانہ کعبہ کے کونوں کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ نے دعا کی اور پھر آپ نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت ادا کیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زید بن عوف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زید بن عوف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5753
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ قُلْتُ : لَأَلْبِسَنَّ ثِيَابِي فَكَانَتْ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلْتُ مَنْ كَانَ مَعَهُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ السَّارِيَةِ الْوُسْطَى عَنْ يَمِينِهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو میں نے کہا: میں آج ( نیا یا عمدہ ) لباس پہنوں گا میرا گھر راستے میں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے آپ کے ساتھ موجود شخص سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز ادا کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : درمیانے ستون کے دائیں طرف دو رکعت ادا کیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث منقول ہے کہ آپ نے دو رکعت ادا کی تھیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث منقول ہے کہ آپ نے دو رکعت ادا کی تھیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5754
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَعْبَةَ ، وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ شَيْبَةَ ، وَبِلَالٌ فَتَزَاحَمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْبَابَ فَوَافَقْتُهُ قَدْ خَرَجَ فَسَأَلْتُهُمَا : كَيْفَ صَنَعَ ؟ فَقَالَا : صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ بِلَالٍ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ سیدنا عثمان بن شیبہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے میں لوگوں کے درمیان میں سے نکلتا ہوا دروازے کے پاس آیا جب میں وہاں پہنچا تو آپ باہر تشریف لے آئے میں نے ان دونوں صاحبان سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا تھا ؟ تو ان دونوں صاحبان نے بتایا آپ نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت ادا کی تھیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5755
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سُئِلَ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ ؟ قَالَ : بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ رَاشِدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے دریافت کیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے کہاں نماز ادا کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا دو ستونوں کے درمیان ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن راشد ثقفی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن راشد ثقفی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔