حدیث نمبر: 5735
وَعَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلَاهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ : أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَنَى الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : وَلِي حَجَرٌ أَنَا أَنْحِتُهُ بِيَدِي أَعْبُدُهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَأَجِيءُ بِاللَّبَنِ الْخَاتِرِ الَّذِي أُنْفِسُهُ عَلَى نَفْسِي فَأَصُبُّهُ عَلَيْهِ فَيَجِيءُ الْكَلْبُ فَيَلْحَسُهُ ثُمَّ يَشْغَرُ فَيَبُولُ فَبَنَيْنَا حَتَّى بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ ، وَمَا يَرَى الْحَجَرَ أَحَدٌ فَإِذَا هُوَ ، وَسَطَ حِجَارَتِنَا مِثْلُ رَأْسِ الرَّجُلِ يَكَادُ يَتَرَاءَى مِنْهُ ، وَجْهُ الرَّجُلِ ، فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ : نَحْنُ نَضَعُهُ ، وَقَالَ آخَرُونَ : نَحْنُ نَضَعُهُ ، قَالَ : اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ حَكَمًا ، قَالُوا : أَوَّلُ رَجُلٍ يَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَتَاكُمُ الْأَمِينُ ، فَقَالُوا لَهُ ، فَوَضَعَهُ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ دَعَا بُطُونَهُمْ فَأَخَذُوا بِنَوَاحِيهِ مَعَهُ فَوَضَعَهُ هُوَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

مجاہد نے اپنے آقا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر میں حصہ لیا تھا وہ بیان کرتے ہیں : میرا ایک پتھر ہوتا تھا ، جسے میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے تیار کیا تھا اور میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا تھا میں تازہ دودھ لے کے آیا میں نے اپنے اوپر ایثار کر کے وہ بت کے لئے مخصوص کیا وہ دودھ میں نے اس بت کے پاس رکھ دیا ایک کتا آیا اور اسے چاٹنے لگا پھر اس نے ٹانگ اوپر کی اور بت پر پیشاب کر دیا ( پھر ہم نے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی یہاں تک کہ جب ہم حجر اسود والی جگہ پر پہنچے ، تو حجر اسود کو کوئی دیکھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ ہمارے پتھروں کے درمیان یوں تھا جیسے آدمی کا سر ہوتا ہے ، ( اتنی سی جگہ خالی تھی کہ ) اس میں سے آدمی کا سر بمشکل نظر آ سکتا تھا ، قریش کے ہر ایک قبیلے کے افراد نے کہا: ہم اسے رکھیں گے دوسروں نے کہا: ہم اسے رکھیں گے پھر کسی نے کہا: کہ تم اس بارے میں اپنے درمیان کسی کو ثالث بنا لو ان لوگوں نے کہا: اس راستے سے جو شخص سب سے پہلے آئے گا ( وہ ثالث ہو گا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے لوگوں نے کہا: امین شخص تمہارے پاس آئے ہیں ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ( تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھوایا اور پھر قریش کی تمام شاخوں کو بلوا کر اس کپڑے کے کونے انہیں پکڑوا دیے اور پھر اسے اس جگہ پر خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5735
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن