مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَعْبَةِ . باب: خانہ کعبہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : مَرَّ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَهْلُ الشَّامِ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِ أَبِي قَبِيسٍ الْجَبَلِ بِالْمَنْجَنِيقِ بِالْحِجَارَةِ فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْ مَنْجَنِيقَهُمْ ، وَأَحْرَقَتْ تَحْتَهُ أَرْبَعَةً وَأَرْبَعِينَ رَجُلًا قَالَ أُنَاسٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ : لَا يَهُولَنَّكُمْ فَإِنَّهَا أَرْضُ صَوَاعِقَ ! فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أُخْرَى فَأَحْرَقَتْ مَنْجَنِيقَهُمْ ، وَأَحْرَقَتْ تَحْتَهُ أَرْبَعِينَ رَجُلًا ، قَالَ : فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ أَتَاهُمْ مَوْتُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَتَفَرَّقَ أَهْلُ الشَّامِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا يَأْتِي فِي كِتَابِ الْفِتَنِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤عکرمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا گزر مسجد سے ہوا اس وقت اہل شام جبل ابوقبیس سے ان لوگوں پر منجنیق کے ذریعے پتھر پھینک رہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر بجلی بھیجی جس نے ان کی منجنیق کو جلا دیا اور اس کے نیچے چالیس افراد بھی جل گئے بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے کہا: تم لوگ پریشان نہ ہو یہاں پر بجلی گرتی رہتی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک اور بجلی بھیجی اس نے ان کی منجنیق کو جلا دیا اور اس کے نیچے چالیس افراد کو جلا دیا راوی کہتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ ان کے پاس یزید بن معاویہ کے مرنے کی اطلاع آ گئی تو اہل شام ادھر ادھر بکھر گئے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے وہ حدیث ذکر کی ہے ، جو آگے چل کے فتنوں سے متعلق کتاب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔