مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَعْبَةِ . باب: خانہ کعبہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : لَمَّا حُرِّقَتِ الْكَعْبَةُ تَثَلَّمَتْ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : لَوْ مَسْكَنُ أَحَدِكُمْ كَانَ هَكَذَا مَا رَضِيَ حَتَّى يُغَيِّرَهُ ، وَقَدْ ثَبَتَ مِنْ رَأْيِي نَقْضُهَا وَبِنَاؤُهَا ، وَشَاوَرَ النَّاسَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : دَعْهَا عَلَى مَا تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّمَا بِكَ الْبُخْلُ فِي النَّفَقَةِ فَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْهَا مِنْ مَالِي ، قَالَ : ثُمَّ ثَبَتَ فَنَقَضَهَا ، قَالَ : وَهَرَبَ النَّاسُ عَنْ مَكَّةَ ، وَارْتَقَى فِي الْكَعْبَةِ ، وَمَعَهُ مَوْلًى لَهُ حَبَشِيٌّ أَسْوَدُ فَجَعَلَ يَهْدِمُ ، وَأَعَانَهُمَا النَّاسُ ، فَمَا تَرَجَّلَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَلْزَقُوهَا بِالْأَرْضِ ، ثُمَّ سَأَلَ مِنْ أَيْنَ حُمِلَتْ حِجَارَتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَوُصِفَ لَهُ فَأَمَرَ بِحَمْلِهَا مِنْ ذَلِكَ الْجَبَلِ حَتَّى حَمَلَ مِنْ ذَلِكَ مَا يُرِيدُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ عَهْدُهُمْ بِالْجَاهِلِيَّةِ حَدِيثٌ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ، وَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ فَإِنَّ قَوْمَكِ إِنَّمَا رَفَعُوهَا لِأَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ شَاءُوا ، وَ [ لَـ ]ـجَعَلْتُ لَهَا بَابًا غَرْبِيًّا " - وَذَكَرَ الْآخَرَ بِمَا لَا أَحْفَظُهُ : يُدْخَلُ مِنْ هَذَا ، وَيُخْرَجُ مِنْ هَذَا - " وَلَأَلْحَقْتُهَا بِأَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ فَإِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا فِي شَأْنِهَا ، وَتَرَكُوا مِنْهَا فِي الْحِجْرِ " ، قَالَ : ثُمَّ حَفَرَ الْأَسَاسَ حَتَّى ، وَقَعَ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : فَكَانَ يُدْخِلُ الْعَتَلَةَ مِنْ جَانِبٍ مِنْ جَوَانِبِهَا فَتَهْتَزُّ جَوَانِبُهَا جَمِيعًا ثُمَّ بَنَاهَا عَلَى مَا زَادَ مِنْهَا فِي الْحِجْرِ فَرَفَعَهَا ، وَكَانَ طُولُهَا يَوْمَ هَدْمِهَا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ ذِرَاعًا فَلَمَّا زَادَ فِيهَا اسْتَقْصَرَتْ فَقَالَ ابْنٌ لَهُ : زِدْ فِيهَا تِسْعَةَ أَذْرُعٍ ، وَزَادَ فِيهَا ثَلَاثَ دَعَائِمَ ، فَلَمَّا وَلِيَ عَبْدُ الْمَلِكِ قَتْلَ ابْنِ الزُّبَيْرِ كَتَبَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ : أَنْ سُدَّ بَابَهَا الَّذِي زَادَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَيُكْسِفُهَا عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهَا ، وَتُطْرَحُ عَنْهَا الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنَ الْحَجَرِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ، وَبِنَاؤُهُ الَّذِي فِيهِ الْيَوْمَ بِنَاءُ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِلَّا مَا غَيَّرَ الْحَجَّاجُ مِنْ نَاحِيَةِ الْحِجْرِ ، وَلُبْسَهُ الَّذِي لَبِسَهُ الْحَجَّاجُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤عروہ بیان کرتے ہیں : جب خانہ کعبہ کو جلا دیا گیا تو وہ کمزور ہو گیا ( یعنی اس کی عمارت کمزور ہو گئی ) ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر تم میں سے کسی ایک کی رہائش گاہ کی یہ حالت ہو جائے تو وہ اسے ٹھیک کیے بغیر راضی نہیں ہو گا میں نے اس بارے میں پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو توڑ کے اس کی تعمیر نو کی جائے ۔ انہوں نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ بھی لیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آپ اسے ویسے ہی رہنے دیں جس حال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑا تھا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: خرچ کرنے کے حوالے سے آپ بخل کا شکار ہو رہے ہیں میں اپنے مال میں سے اس پر خرچ کروں گا راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے طے کر لیا اور اس کو توڑ دیا کچھ لوگ مکہ چھوڑ کے چلے گئے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خانہ کعبہ پر چڑھے ان کے ساتھ ان کا ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا انہوں نے اسے توڑنا شروع کیا کچھ لوگوں نے ان دونوں کی مدد کی تو سورج غروب ہونے تک انہوں نے اسے زمین کے ساتھ ملا دیا پھر انہوں نے دریافت کیا : زمانہ جاہلیت میں اس کے پتھر کہاں سے لائے گئے تھے تو انہیں یہ بات بتائی گئی کہ وہ کون سے پہاڑ سے لائے گئے تھے ۔ انہوں نے اسی پہاڑ سے وہ پتھر منگوائے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو تڑوا دیتا ہے اور اسے زمین کے ساتھ ملا دیتا تمہاری قوم نے اسے بلند اس لئے کیا تھا تاکہ وہ جسے چاہیں اسے اندر جانے دیں اور میں اس کا ایک مغربی دروازہ بھی بناتا“ ۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور چیز بھی ذکر کی تھی جو مجھے یاد نہیں رہی اس میں یہ الفاظ ہیں : ” کوئی شخص اس دروازے سے داخل ہوتا اور اس دروازے سے نکل جاتا اور میں اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے ساتھ ملا دیتا کیونکہ تمہاری قوم نے ان بنیادوں میں کمی کر دی تھی اور حطیم والے حصے کو اس میں سے چھوڑ دیا تھا “ ۔ رادی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے بنیادوں کی کھدائی کی ، یہاں تک کہ وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں تک پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس کے تمام اطراف میں پتھر اکھیڑنے والی لکڑی کو داخل کیا ، تو اس کے تمام حصے ہلنے لگے ، پھر انہوں نے اس کو تعمیر کیا اور حطیم والے حصے میں اضافہ کر دیا اور اسے بھی بلند کر دیا ، تو جس دن اس کو منہدم کیا گیا تھا ، اس وقت اس کی لمبائی دس گز تھی ، جب اس میں اضافہ کیا گیا ، تو وہ کم ہو گئی ان کے بیٹے نے ان سے کہا: آپ اس میں نو گز کا اضافہ کریں اور اس میں تین ستونوں کا اضافہ کریں ۔ جب عبدالملک نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا ، تو حجاج نے اسے خط لکھا کہ تم وہ دروازہ بند کروا دو ! جو ابن زبیر نے اضافہ کروایا تھا اور اسے ویسے ہی کر دو ، جیسے وہ پہلے تھا اور جو ابن زبیر نے حطیم کے حوالے سے اضافہ کیا تھا ، اس اضافے کو الگ کر دو تو اس نے ایسا ہی کیا ، تو اب اس کی تعمیر اس دن کی مانند ہے ، جو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی تعمیر سے پہلے تھی ، البتہ حجاج نے حطیم والے حصے کو تبدیل کر دیا تھا اور اس کا غلاف وہ ہے ، جو حجاج نے اُسے پہنایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔