حدیث نمبر: 5732
وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ قَالَ : أَدْخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى عَائِشَةَ نَاسًا مِنْ خِيَارِ قُرَيْشٍ ، وَكُبَرَائِهِمْ فَأَخْبَرَتْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالشِّرْكِ لَبَنَيْتُ الْبَيْتَ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْمَاعِيلَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - هَلْ تَدْرُونَ لِمَ قَصَّرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْمَاعِيلَ ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ " ، قَالَ : " وَكَانَتِ الْكَعْبَةُ قَدْ وَهَتْ مِنْ حَرِيقِ أَهْلِ الشَّامِ فَهَدَمَهَا ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ فَكَشَفَ عَنْ رُبْضٍ فِي الْحِجْرِ أَخَذَ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ فَتَرَكَهُ مَكْشُوفًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ يَشْهَدُ عَلَيْهِ " ، قَالَ : " فَرَأَيْتُ رُبْضَةَ ذَلِكَ كَحِلْفِ الْإِبِلِ خَمْسَ حِجَارَاتٍ : وَجْهٌ حَجَرٌ ، وَوَجْهٌ حَجَرٌ ، وَوَجْهٌ حَجَرٌ ، وَوَجْهٌ حَجَرَانِ " ، قَالَ : " فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُدْخِلُ الْعَتَلَةَ فَيُهْرِقُهَا مِنْ نَاحِيَةِ الرُّكْنِ فَيَهْتَزُّ الرُّكْنُ الْآخَرُ " ، قَالَ : " فَبَنَاهُ عَلَى ذَلِكَ الرُّبُضِ ، وَوَضَعَ فِيهِ بَابَيْنِ لَاصِقَيْنِ بِالْأَرْضِ شَرْقِيًّا ، وَغَرْبِيًّا " . ¤ فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهُ الْحَجَّاجُ مِنْ نَحْوِ الْحِجْرِ ثُمَّ أَعَادَهُ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ : وَدِدْتُ أَنَّكَ تَرَكْتَ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، وَمَا عَمِلَ . ¤ قَالَ مَرْثَدٌ : وَسَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : لَوْ وَلِيتُ مِنْهُ مَا وَلِيَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَدْخَلْتُ الْحِجْرَ كُلَّهُ فِي الْبَيْتِ ، فَلِمَ يُطَفْ بِهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْبَيْتِ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَمَرْثَدٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

مرثد بن شرحبیل جو اس موقع پر موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قریش کے کچھ معززین اور اکابرین کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر تمہاری قوم زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ان لوگوں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بنیادوں میں کمی کیوں کی تھی “ ۔ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے پاس خرچ ختم ہو گیا تھا راوی بیان کرتے ہیں : اہل شام کے جلانے کی وجہ سے خانہ کعبہ کی عمارت کمزور ہو گئی تھی تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا دیا میں ان دنوں مکہ میں موجود تھا انہوں نے حطیم میں بنیادوں سے ہٹایا تو اس کا حصہ ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوا تھا انہوں نے تیس دن تک اس جگہ کو کھلا رکھا تاکہ اس پر گواہ بنا لیں راوی کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا کہ وہ اونٹ کی کوہان کی مانند پانچ پتھر تھے ایک طرح کا ایک پتھر تھا ایک طرح کا ایک پتھر تھا ایک طرح کا ایک پتھر تھا اور ایک طرح کے دو پتھر تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے پتھر اکھاڑنے والی لکڑی کو داخل کیا اور رکن کی طرف سے حرکت دی ، تو دوسری طرف کا رکن ہل گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان بنیادوں پر اسے تعمیر کیا اور اس کے دو دروازے بنائے جو زمین سے ملے ہوئے تھے ایک مشرق کی سمت میں تھا اور ایک مغرب کی سمت میں تھا ۔ جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا گیا تو حجاج نے حطیم والے حصے کو مہندم کروا دیا اور اسے پہلے کی طرح دوبارہ کر دیا عبدالملک نے اسے خط میں لکھا میری یہ خواہش تھی کہ تم ابن زبیر اور جو کچھ اس نے کیا ہے اسے ویسے ہی رہنے دیتے ۔ مرثد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر میں اس چیز کا نگران بنتا جس کے نگران ابن زبیر بنے تھے تو میں پوری حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا کیونکہ اگر یہ بیت اللہ کا حصہ نہ ہوتی تو اس کا طواف نہ کیا جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مرثد نامی اس راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن