حدیث نمبر: 5731
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : كُنَّا نَنْقُلُ الْحِجَارَةَ إِلَى الْبَيْتِ حِينَ كَانَتْ قُرَيْشٌ تَبْنِي الْبَيْتَ فَانْفَرَدَتْ قُرَيْشٌ رَجُلَانِ رَجُلَانِ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ ، وَكَانَتِ النِّسَاءُ تَنْقُلُ النَّسِيلَ فَكُنْتُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَنْقُلُ الْحِجَارَةَ عَلَى رِقَابِنَا ، وَأَرْدِيَتُنَا تَحْتَ الْحِجَارَةِ فَإِذَا غَشِينَا النَّاسَ ائْتَزَرْنَا فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَامِي لَيْسَ عَلَيْهِ إِزَارٌ خَرَّ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْبَطَحَ ، فَأَلْقَيْتُ حَجَرِي ، وَجِئْتُ أَسْعَى فَإِذَا هُوَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُ قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَامَ فَأَخَذَ إِزَارَهُ ، وَقَالَ : " نُهِيتُ أَنْ أَمْشِيَ عُرْيَانًا " ، فَكُنْتُ أَكْتُمُهَا النَّاسَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولُوا : مَجْنُونٌ ، حَتَّى أَظْهَرَ اللَّهُ نُبُوَّتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَالطَّيَالِسِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب قریش خانہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے تو ہم بیت اللہ تک پتھر منتقل کر رہے تھے قریش کے دو دو آدمی پتھر منتقل کرتے تھے اور خواتین ( گارا وغیرہ بنانے کے لیے ) پانی منتقل کرتی تھیں میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنی گردن پر رکھ کر پتھر منتقل کر رہے تھے ہماری چادریں پتھروں کے نیچے ہوتی تھیں جب لوگ قریب آ جاتے تھے تو ہم انہیں تہبند کے طور پر باندھ لیتے تھے ایک مرتبہ میں جا رہا تھا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے آگے تھے ان کے جسم پر تہبند نہیں تھا اسی دوران سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم گر گئے میں نے پتھر ایک طرف رکھا اور دوڑتا ہوا آیا تو وہ آسمان کی طرف اوپر کی طرف دیکھ رہے تھے میں نے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے ؟ تو وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اپنا تہبند لیا اور بولے : مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں برہنہ ہو کر چلوں ( سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں لوگوں سے یہ بات چھپا کے رکھتا تھا اس اندیشے کے تحت کہ وہ یہ کہیں گے : یہ مجنوں ہے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی نبوت کو ظاہر کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ ، ثوری طیاسی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5731
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1158 و 1159)»