مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَعْبَةِ . باب: خانہ کعبہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ : إِنِّي مُهْبِطٌ مَعَكَ بَيْتًا - أَوْ مَنْزِلًا - يُطَافُ حَوْلَهُ كَمَا يُطَافُ حَوْلَ عَرْشِي وَيُصَلَّى عِنْدَهُ كَمَا يُصَلَّى حَوْلَ عَرْشِي ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الطُّوفَانِ رُفِعَ وَكَانَ الْأَنْبِيَاءُ يَحُجُّونَهُ ، وَلَا يَعْلَمُونَ مَكَانَهُ ، فَبَوَّأَهُ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَبَنَاهُ مِنْ خَمْسَةِ أَجْبُلٍ : حِرَاءَ وَثُبَيْرٍ وَلُبْنَانَ وَجَبَلِ الطُّورِ وَجَبَلِ الْخَيْرِ ; فَتَمَتَّعُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالٰی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت سے نازل کیا ، تو فرمایا : میں تمہارے ساتھ ایک گھر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک ٹھکانہ نازل کر رہا ہوں جس کے ارد گرد طواف کیا جائے گا جس طرح میرے عرش کے اردگرد طواف کیا جاتا ہے اور اس کے پاس نماز ادا کی جائے گی جس طرح میرے عرش کے اردگرد نماز ادا کی جاتی ہے پھر جب طوفان کا زمانہ آیا تو اسے اٹھا لیا گیا انبیاء کرام اس کا حج کرتے رہے لیکن انہیں اس کی جگہ کا پتہ نہیں تھا پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے تعمیر کیا انہوں نے پانچ پہاڑوں سے ( پتھر حاصل کر کے ) اسے تعمیر کیا ( وہ پہاڑ ) یہ ہیں حراء ، ثبیر ، لبنان ، جبل طور اور جبل خیر ( سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) تم سے جہاں تک ہو سکے اس گھر سے نفع حاصل کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔