مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَعْبَةِ . باب: خانہ کعبہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ بَكَى عَلَى الْجَنَّةِ مِائَةَ خَرِيفٍ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى سِعَةِ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ أَمَا لِأَرْضِكَ عَامِرٌ يَسْكُنُهَا غَيْرِي ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ بَلَى فَإِنَّهَا سَتُرْفَعُ بُيُوتٌ يُذَكَرُ فِيهَا اسْمِي وَسَأُبَوِّئُكَ مِنْهَا بَيْتًا أَخْتَصُّهُ بِكَرَامَتِي ، وَأُحْلِلْهُ عَظَمَتِي وَأُسَمِّيهِ بَيْتِي ، وَأُنْطِقُهُ بِعَظَمَتِي ، وَلَسْتُ أَسْكُنُهُ وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِي أَنْ أَسْكُنَ الْبُيُوتَ وَلَا يَسَعُنِي ، وَلَكِنْ عَلَى عَرْشِي وَكُرْسِيِّ عَظَمَتِي وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِشَيْءٍ مِمَّا خَلَقْتُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ قَبْضَتِي وَلَا مِنْ قُدْرَتِي وَتُعَمِّرُهُ يَا آدَمُ مَا كُنْتَ حَيًّا ثُمَّ تُعَمِّرُهُ الْقُرُونُ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً بَعْدَ أُمَّةٍ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى وَلَدٍ مِنْ أَوْلَادِكَ يُقَالُ لَهُ : إِبْرَاهِيمُ أَجْعَلُهُ مِنْ عُمَّارِهِ وَسُكَّانِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَكِلَاهُمَا فِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف نازل کیا ، تو وہ ایک سو سال تک جنت کے حوالے سے روتے رہے پھر انہوں نے زمین کی وسعت کی طرف دیکھا اور بولے : اے میرے پروردگار کیا تیری زمین کو آباد کرنے والا میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ، تو اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی کی جی ہاں ! عنقریب گھر بنائے جائیں گے جن میں میرے نام کا ذکر ہو گا اور میں ان میں سے ایک گھر میں تمہیں ٹھہراؤں گا جسے میں نے اپنی عزت افزائی کے حوالے سے مخصوص کیا ہے میں نے اپنی عظمت اسے عطا کی ہے اور اسے اپنے گھر کا نام دیا ہے اور میں نے اسے اپنی عظمت سے نوازا ہے ، میں اس میں نہیں رہتا ہوں اور یہ چیز میرے لائق بھی نہیں ہے کہ میں گھروں میں رہوں اور نہ ہی یہ میری شان کے لائق ہے میں تو اپنے عرش اور اپنی کرسی پر ہوں میں نے جو چیز پیدا کی ہے اس میں سے کسی چیز کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ میرے قبضے سے نکل جائے یا میری قدرت سے نکل جائے اے آدم جب تک تم زندہ رہو گے تم اسے آباد کرو گے پھر تمہارے بعد ایک امت کے بعد دوسری امت مختلف زمانوں تک اسے آباد کرتی رہے گی یہاں تک کہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص تک بات پہنچے گی جس کا نام ابراہیم ہو گا میں اسے اس کو آباد کرنے والا اور اس کا رہائشی بناؤں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی اور ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور ان دونوں کی توثیق بھی کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔