مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَعْبَةِ . باب: خانہ کعبہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ[و] قَالَ : لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ بِأَرْضِ الْهِنْدِ وَمَعَهُ غَرْسٌ مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ فَغَرَسَ بِهَا ، وَكَانَ رَأْسُهُ بِالسَّمَاءِ وَرِجْلَاهُ بِالْأَرْضِ ، وَكَانَ يَسْمَعُ كَلَامَ الْمَلَائِكَةِ ، فَكَانَ ذَلِكَ يُهَوِّنُ عَلَيْهِ وَحْدَتَهُ ، فَغَمَرَ غَمْرَةَ فَتَطَأْطَأَ إِلَى سَبْعِينَ ذِرَاعًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنِّي مُنْزِلٌ عَلَيْكَ بَيْتًا يُطَافُ حَوْلَهُ كَمَا تَطُوفُ حَوْلَ عَرْشِي الْمَلَائِكَةُ ، وَيُصَلَّى عِنْدَهُ كَمَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ حَوْلَ عَرْشِي ، فَأَقْبَلَ نَحْوَ الْبَيْتِ فَكَانَ مَوْضِعَ كُلِّ قَدَمٍ قَرْيَةٌ ، وَمَا بَيْنَ قَدَمَيْهِ مَفَازَةٌ ، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَدَخَلَ مِنْ بَابِ الصَّفَا ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى عِنْدَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَمَاتَ بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو ہند کی سرزمین پر اتارا تو ان کے ہمراہ جنت کے پودے بھی تھے ۔ انہوں نے وہاں وہ پودے لگائے ان کا سر آسمان میں تھا اور پاؤں زمین میں تھے وہ فرشتوں کا کلام سنا کرتے تھے اکیلے ہونا ان کو گراں گزرتا تھا ، انہیں بے چینی محسوس ہوتی ، ان کا قد ستر گز تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ چیز نازل کی کہ میں تم پر ایک گھر کو نازل کروں گا جس کے ارد گرد طواف کیا جائے گا جس طرح فرشتے میرے عرش کے اردگرد طواف کرتے ہیں اور اس کے پاس نماز ادا کی جائے گی جس طرح فرشتے میرے عرش کے ارد گرد نماز ادا کرتے ہیں تو سیدنا آدم علیہ السلام بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے ان کا ایک قدم اتنی دور پڑتا تھا جتنی بستی ہوتی ہے اور ان کے دو قدموں کے درمیان ویرانہ عبور ہو جاتا تھا یہاں تک کہ وہ مکہ آ گئے وہ صفا کے دروازے کی طرف سے داخل ہوئے ۔ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اس کے پاس نماز ادا کی پھر وہ وہاں سے شام تشریف لے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ متروک ہے ۔