وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى زَمْزَمَ فَقَالَ : " انْزِعُوا وَاسْقُوا ; فَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ الشَّعَّابُ ، بَصْرِيٌّ وَرَوَى عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ وَغَيْرُهُمَا ، وَيُقَالُ لَهُ : الزَّمَامُ ، ذَكَرَهُ ابْنُ مَاكُولَا عَنْ خَطِّ الصُّورِيِّ فِي مِهْزَمٍ - بِكَسْرِ الْمِيمِ وَفَتْحِ الزَّايِ وَتَخْفِيفِهَا - وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ آب زمزم کے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ پانی نکالو اور پلاؤ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ اس کے حوالے سے تم مغلوب ہو جاؤ گے ( یعنی ہجوم زیادہ ہو جائے گا ) تو میں بھی نکالتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مہزم شعاب بصری ہے ، جس کے حوالے سے ابوداؤد طیالسی اور عبدالصمد بن عبدالوارث اور دیگر حضرات نے روایات نقل کی ہیں اسے زمام بھی کہا: گیا ہے ابن ماکولا نے اس کا ذکر لفظ مہزم کی شکل میں کیا ہے ، جس میں ” م “ پزیر ہے ” ز “ پر زبر ہے اور اس پر تخفیف ہے یحیی بن معین اور امام ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔