مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ أَخْذِ كُلِّ عِلْمٍ مِنْ أَهْلِهِ . باب: ہر علم اس کے اہل ( یعنی ماہر فن ) سے حاصل کیا جائے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ وَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْقُرْآنِ فَلْيَأْتِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْفَرَائِضِ فَلْيَأْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْفِقْهِ فَلْيَأْتِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْمَالِ فَلْيَأْتِنِي ; فَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي لَهُ وَالِيًا وَقَاسِمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ” جابیہ “ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! جو شخص قرآن کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہو ، وہ ابی بن کعب کے پاس جائے ، جو شخص وراثت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو ، وہ زید بن ثابت کے پاس جائے ، جو شخص فقہ کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو ، وہ معاذ بن جبل کے پاس جائے ، جو شخص مال کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو ، وہ میرے پاس آئے ، کیونکہ اللہ تعالی نے اس کے لیے مجھے ہی والی اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد بن حصین ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔