حدیث نمبر: 5650
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ مِنًى فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ فَسَلَّمَا عَلَيْهِ وَدَعَيَا لَهُ دُعَاءً حَسَنًا . فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْنَا لِنَسْأَلَكَ . فَقَالَ : " إِنْ شِئْتُمَا أَخْبَرْتُكُمَا بِمَا جِئْتُمَا تَسْأَلَانِي عَنْهُ فَعَلْتُ ، وَإِنْ شِئْتُمَا أَسْكُتُ وَتَسْأَلَانِي فَعَلْتُ ؟ " . فَقَالَا : أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَزْدَدْ إِيمَانًا أَوْ يَقِينًا ؟ - الشَّكُّ مِنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ : لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ : إِيمَانًا أَوْ يَقِينًا - فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلثَّقَفِيِّ : سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! ! فَقَالَ الثَّقَفِيُّ : بَلْ أَنْتَ فَسَلْهُ ، فَإِنِّي أَعْرِفُ لَكَ حَقَّكَ . فَسَأَلَهُ فَقَالَ : أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! قَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ مَخْرَجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَكْعَتَيْكَ بَعْدَ الطَّوَافِ وَمَا لَكَ فِيهِمَا ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ وُقُوفِكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ نَحْرِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ حَلْقِكَ رَأْسَكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ يَعْنِي - طَوَافَ الْإِفَاضَةِ - ؟ " . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ عَنْ هَذَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ قَالَ : " فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ لَا تَضَعُ نَاقَتُكَ خُفًّا وَلَا تَرْفَعُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ بِهِ حَسَنَةً ، وَحَطَّ عَنْكَ بِهِ خَطِيئَةً ، وَرَفَعَكَ دَرَجَةً ، وَأَمَّا رَكْعَتَاكَ بَعْدَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَ ذَلِكَ كَعِتْقِ سَبْعِينَ رَقَبَةً . وَأَمَّا وُقُوفُكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ : هَؤُلَاءِ عِبَادِي جَاءُوا شُعْثًا شُفَعَاءَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ، يَرْجُونَ رَحْمَتِي وَمَغْفِرَتِي ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكُمْ كَعَدَدِ الرَّمْلِ وَكَعَدَدِ الْقَطْرِ وَكَزَبَدِ الْبَحْرِ لَغَفَرْتُهَا ، أَفِيضُوا عِبَادِي مَغْفُورًا لَكُمْ وَلِمَنْ شَفَعْتُمْ لَهُ . وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ تَرْمِيهَا تَكْفِيرُ كَبِيرَةٍ مِنَ الْكَبَائِرِ الْمُوجِبَاتِ ، وَأَمَّا نَحْرُكَ فَمَدْخُورٌ لَكَ عِنْدَ رَبِّكَ . وَأَمَّا حِلَاقُكَ رَأْسَكَ فَلَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَلَقْتَهَا حَسَنَةٌ ، وَتُمْحَى عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةٌ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَتِ الذُّنُوبُ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِذَنْ يُدَّخَرُ لَكَ فِي حَسَنَاتِكَ ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ - يَعْنِي الْإِفَاضَةَ - فَإِنَّكَ تَطُوفُ وَلَا ذَنْبَ لَكَ : يَأْتِي مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَ يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْكَ ثُمَّ يَقُولُ : اعْمَلْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى ! " . قَالَ الثَّقَفِيُّ : فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! قَالَ : " جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ " . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ عَنْهَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ . قَالَ : " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنَّكَ إِذَا تَمَضْمَضْتَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ مَنْخِرَيْكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ شَعْرِ عَيْنَيْكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ يَدَيْكَ ، وَإِذَا مَسَحْتَ رَأْسَكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ رَأْسِكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ قَدَمَيْكَ ، ثُمَّ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَاقْرَأْ مِنَ الْقُرْآنِ مَا شِئْتَ ، ثُمَّ إِذَا رَكَعْتَ فَأَمْكِنْ يَدَيْكَ مِنْ رُكْبَتَيْكَ ، وَأَفْرِجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ إِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ وَجْهَكَ مِنَ السُّجُودِ كُلَّهُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، وَلَا تَنْقُرْ نَقْرًا وَصَلِّ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ وَآخِرِهِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ صَلَّيْتُهُ كُلَّهُ ؟ قَالَ : " فَأَنْتَ إِذًا أَنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد منی میں ، اللہ کے رسول کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے آپ کو سلام کیا اور آپ کو اچھے طریقے سے مخاطب کرتے ہوئے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ سے کچھ دریافت کرنے کے لئے حاضر خدمت ہوئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم دونوں چاہو ، تو میں تم دونوں کو یہ بتا دیتا ہوں کہ تم دونوں کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم دونوں چاہو ، تو میں خاموش رہتا ہوں تم دونوں مجھ سے سوال کر لو ، تو میں ایسا کر لیتا ہوں ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتائیے تاکہ ہمارے ایمان ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) یقین میں اضافہ ہو یہ شک اسماعیل نامی راوی کو ہے وہ کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں میں سے کیا لفظ ہے ایمان یا یقین ( سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) انصاری نے ثقفی شخص سے کہا: تم اللہ کے رسول سے سوال کرو ثقفی نے کہا: جی نہیں ! بلکہ تم سوال کرو کیونکہ میں تمہارے حق سے واقف ہوں انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہارا اپنے گھر سے نکل کر بیت الحرام کی طرف جانے کا قصد کرنا اس کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور طواف کے بعد تمہارے دو رکعت ادا کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے صفا اور مروہ کا طواف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا تمہارے عرفہ کی شام وقوف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا تمہارے قربانی کا تمہارے کیا اجر ملے گا تمہیں اپنے سر کو مونڈوانے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور اس کے بعد تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے یعنی طواف افاضہ کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی بارے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے گھر سے نکلو اور تمہارا قصد بیت الحرام کی طرف جانے کا ہو ، تو تمہاری اونٹنی جو بھی پاؤں رکھے گی اور جو بھی پاؤں اٹھائے گی تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں تمہارے لئے ایک نیکی کو نوٹ کرے گا اور اس کی وجہ سے تمہاری ایک برائی کو ختم کر دے گا اور تمہارے درجہ کو بلند کرے گا جہاں تک تمہارے طواف کے بعد دو رکعت ادا کرنے کا تعلق ہے ، تو یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک تمہارے اس کے بعد صفا و مروہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ، تو یہ ستر غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک عرفہ کی شام تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ، تو بے شک اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور تم لوگوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ ارشاد فرماتا ہے : یہ میرے بندے جو بکھرے ہوئے بال لے کر آئے ہیں دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں یہ میری رحمت اور مغفرت کی امید رکھتے ہیں اگر تم لوگوں کے گناہ ریت کے ذروں جتنے ہوں یا بارش کے قطروں جتنے ہوں یا سمندر کی جھاگ کی مانند ہوں تو میں نے ان کی مغفرت کر دی ۔ اے میرے بندو ! تم ایسی حالت میں واپس جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہو اور جس کی تم نے شفاعت کی ہے ، اس کی بھی مغفرت ہو چکی ہو ، جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ، تو ہر کنکری جو تم نے ماری ہو گی وہ ایک کبیرہ گناہ کا کفارہ بن جائے گی جو ہلاکت کا شکار کر دینے والا ہو جہاں تک قربانی کا تعلق ہے ، تو وہ تمہارے پروردگار کے پاس سنبھال کر رکھی جائے گی جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ، تو تم نے ہر بال جس کو مونڈوایا ہے اس کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی اور اس کی وجہ سے تمہاری ایک خطاء کو ختم کر دیا جائے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر گناہ اس سے کم ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس صورت میں اسے تمہاری نیکیوں کے طور پر ذخیرہ کر لیا جائے گا جہاں تک تمہارے اس کے بعد بیت اللہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ( راوی کہتے ہیں : یعنی طواف افاضہ کا تعلق ہے ) تو جب تم طواف کرو گے تو تمہارا کوئی گناہ باقی نہیں ہو گا ایک فرشتہ آئے گا تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ رکھے گا اور پھر یہ کہے گا : آگے تم نئے سرے سے عمل شروع کرو کیونکہ گزشتہ گناہوں کی ، تو مغفرت ہو چکی ہے ۔
ثقفی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بھی بتائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے نماز کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی سلسلے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ، تو اچھی طرح وضو کرو جب تم کلی کرو گے تو تمہارے نتھنوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنا چہرہ دھوؤ گے تو تمہاری آنکھوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم دونوں بازو دھوؤ گے تو تمہارے ناخنوں سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنے سر کا مسح کرو گے تو تمہارے سر سے گناہ نکل جائیں گے جب تم اپنے پاؤں دھوؤ گے تو تمہارے پاؤں کے ناخنوں سے گناہ نکل جائیں گے پھر جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو ، تو جو چاہو تم قرآن کا وہ حصہ تلاوت کرو پھر جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما کے رکھو اپنی انگلیاں کشادہ رکھو یہاں تک کہ اطمینان کے ساتھ رکوع کرو پھر جب تم سجدے میں جاؤ تو سجدے میں اپنی پیشانی کو جما کے رکھو اور اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو اور تم ٹھونگا نہ مارنا تم دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں نماز ادا کرو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں پورا دن نماز ادا کرتا رہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم ، تم ہو گے ( یعنی اس کے تو کیا کہنے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5650
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1083)»