وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَطَّى إِلَيْهِ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ ، فَسَبَقَ الْأَنْصَارِيُّ الثَّقَفِيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّقَفِيِّ : " إِنَّ الْأَنْصَارِيَّ قَدْ سَبَقَكَ بِالْمَسْأَلَةِ " . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : لَعَلَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ أَعْجَلَ مِنِّي فَهُوَ فِي حِلٍّ . قَالَ : فَسَأَلَ الثَّقَفِيُّ عَنِ الصَّلَاةِ فَأَخْبَرَهُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِيِّ : " إِنْ شِئْتَ خَبَّرْتُكَ بِمَا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ وَإِنْ شِئْتَ تَسْأَلُنِي فَأُخْبِرُكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُخْبِرُنِي ! قَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي مَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا أَمَّمْتَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ فِي وُقُوفِكَ فِي عَرَفَةَ ؟ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ فِي رَمْيِكَ الْجِمَارَ ؟ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ فِي حَلْقِ رَأْسِكَ ؟ وَمَا لَكَ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا وَدَّعْتَ الْبَيْتَ ؟ " . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ . قَالَ : " فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ إِذَا أَمَّمْتَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ أَنْ لَا تَرْفَعَ قَدَمًا أَوْ تَضَعَهَا أَنْتَ وَدَابَّتُكَ إِلَّا كُتِبَتْ لَكَ حَسَنَةٌ وَرُفِعَتْ لَكَ دَرَجَةٌ . وَأَمَّا وُقُوفُكَ بِعَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِمَلَائِكَتِهِ : يَا مَلَائِكَتِي مَا جَاءَ بِعِبَادِي ؟ قَالُوا : جَاءُوا يَلْتَمِسُونَ رِضْوَانَكَ وَالْجَنَّةَ . فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : فَإِنِّي أُشْهِدُ نَفْسِي وَخَلْقِي أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ عَدَدَ أَيَّامِ الدَّهْرِ ، وَعَدَدَ الْقَطْرِ ، وَعَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ . وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) وَأَمَّا حَلْقُكَ رَأْسَكَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَعْرِكَ مِنْ شَعْرَةٍ تَقَعُ فِي الْأَرْضِ إِلَّا كَانَتْ لَكَ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . وَأَمَّا الْبَيْتُ إِذَا وَدَّعْتَ فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا ، وَمَنْ فَوْقَهُ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اس کے بعد دو آدمی لوگوں کو پھلانگ کر آپ کی خدمت میں آئے ایک شخص کا تعلق انصار سے تھا اور ایک شخص کا تعلق ثقیف قبیلے سے تھا انصاری شخص ثقفی سے سبقت لے گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقفی سے فرمایا انصاری سوال کرنے کے حوالے سے تم سے سبقت لے گیا ہے انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہو سکتا ہے کہ اسے مجھ سے زیادہ جلدی ہو ، تو میں اسے اجازت دیتا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : ثقفی شخص نے نماز کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں اس بارے میں بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم چاہو ، تو تم مجھ سے سوال کرو میں تمہیں بتا دوں گا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتایئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے یہ دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہیں کتنا اجر ملے گا اس چیز کا کہ جب تم بیت العقیق کا قصد کر کے نکلو اور عرفہ میں تمہارے وقوف کرنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تمہارے سر کو مونڈوانے کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور جب تم بیت اللہ سے رخصت ہو گے تو تمہیں کیا اجر ملے گا انصاری نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں آپ کے پاس اسی بارے میں دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم بیت عتیق کا قصد کرو گے تو تمہیں یہ اجر ملے گا کہ تم جو بھی قدم اٹھاؤ گے یا جو بھی رکھو گے خواہ تمہارا قدم ہو یا تمہاری سواری کا قدم ہو ، تو تمہارے لئے ایک نیکی نوٹ کی جائے گی اور تمہارا ایک درجہ بلند کیا جائے گا جہاں تک عرفہ میں تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میرے بندے کیوں آئے ہیں ؟ وہ عرض کرتے ہیں : یہ تیری رضا مندی اور جنت کی تلاش میں آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے آپ کو اور اپنی مخلوق کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ( خواہ ان لوگوں کے گناہ ) دنوں کی تعداد جتنے ہوں یا بارش کے قطروں کی تعداد جتنے ہوں یا ریت کے ذروں کی تعداد جتنے ہوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے ، جو اس چیز کا بدلہ ہے ، جو وہ عمل کیا کرتے تھے “ ۔ جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ، تو تمہارے بالوں میں سے جو بھی بال زمین پر گرتا ہے وہ تمہارے لئے قیامت کے دن نور ہو گا جہاں تک بیت اللہ سے رخصت ہونے کا تعلق ہے ، تو تم اپنے گناہوں سے یوں نکل جاؤ گے ، جیسے تم اس دن تھے جب تمہاری والدہ نے تمہیں جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحیم بن شروس ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کہا: ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی ہے اس کے اوپر کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے ۔