حدیث نمبر: 5649
وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ : جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ وَالْآخَرُ مِنْ ثَقِيفٍ ، فَسَبَقَهُ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّقَفِيِّ : يَا أَخَا ثَقِيفٍ سَبَقَكَ الْأَنْصَارِيُّ . فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : أَنَا أُبْدِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " يَا أَخَا ثَقِيفٍ ، سَلْ عَنْ حَاجَتِكَ ، وَإِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ عَمَّا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ " . قَالَ : فَذَاكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ أَنْ تَفْعَلَ . قَالَ : " فَإِنَّكَ تَسْأَلُنِي عَنْ صَلَاتِكَ ، وَعَنْ رُكُوعِكَ ، وَعَنْ سُجُودِكَ ، وَعَنْ صِيَامِكَ ؟ وَتَقُولُ : مَا لِيَ فِيهِ ؟ " . قَالَ : إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ . قَالَ : " فَصَلِّ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ وَنَمْ وَسَطَهُ " . قَالَ : فَإِنْ صَلَّيْتُ وَسَطَهُ ؟ قَالَ : " فَأَنْتَ إِذًا أَنْتَ " . قَالَ : " فَإِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَرَكَعْتَ فَضَعْ يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَفْصِلِهِ ، وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَنْقُرْ ، وَصُمِ اللَّيَالِيَ الْبَيْضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ مُوَثَّقُونَ . وَقَالَ الْبَزَّارُ : قَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ وُجُوهٍ ، وَلَا نَعْلَمُ لَهُ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا الطَّرِيقِ . ¤
محمد محی الدین

امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تا ہم اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو افراد حاضر ہوئے ان میں سے ایک کا تعلق انصار سے تھا اور دوسرے کا ثقیف سے تھا انصاری پہلے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقفی سے فرمایا : اے ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے فرد انصاری تم سے سبقت لے گیا ہے انصاری نے کہا: یا رسول اللہ ! میں اسے پہل کا موقع دیتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے فرد تم اپنی حاجت کے بارے میں سوال کرو اور اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو ؟ اس نے عرض کی : اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہو گا ( یا زیادہ حیران کن ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میرے پاس اپنی نماز اپنے رکوع اپنے سجدے اور اپنے روزے کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تم یہ کہو کہ مجھے اس کا کیا بدلہ ملے گا ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ( ایسا ہی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دن کے ابتدائی حصے میں اور آخری حصے میں نماز ادا کرو اور اس کے درمیان میں سو جاؤ اس نے عرض کی : اگر میں درمیانی حصے میں بھی نماز ادا کر لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم ، تم ہو گے ( یعنی اس کے کیا کہنے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو اور رکوع میں جاؤ ، تو دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر رکھو اور اپنی انگلیاں کشادہ رکھو پھر تم اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ ہر عضو اپنے جوڑ پر آ جائے جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی پیشانی کو جما کر زمین پر رکھو تم ٹھونگا نہ مارنا اور تم چمک دار راتوں یعنی تیرہ چودہ اور پندرہ ( تاریخ کے ) روزے رکھو “ ۔
امام بزار کے رجال کی توثیق کی گئی ہے امام بزار فرماتے ہیں : یہ روایت مختلف حوالوں سے نقل کی گئی ہے لیکن ہمارے علم کے مطابق اس سے زیادہ عمدہ سند اور کوئی نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13566)»