عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ مِنًى ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ فَسَلَّمَا ، ثُمَّ قَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْنَا نَسْأَلُكَ . فَقَالَ : " إِنْ شِئْتُمَا أَخْبَرْتُكُمَا بِمَا جِئْتُمَا تَسْأَلَانِي عَنْهُ فَعَلْتُ ، وَإِنْ شِئْتُمَا أَنْ أُمْسِكَ فَعَلْتُ ؟ " . فَقَالَا : أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ الثَّقَفِيُّ لِلْأَنْصَارِيِّ : سَلْ . فَقَالَ : أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! فَقَالَ : " جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي عَنْ مَخْرَجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَكْعَتَيْكَ بَعْدَ الطَّوَافِ وَمَا لَكَ فِيهِمَا ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ وُقُوفِكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ نَحْرِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ حَلْقِكَ رَأَسَكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ مَعَ الْإِفَاضَةِ ؟ " . فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَعَنْ هَذَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ . قَالَ : " فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ لَا تَضَعُ نَاقَتُكَ خُفًّا وَلَا تَرْفَعُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ بِهِ حَسَنَةً ، وَمَحَا عَنْكَ خَطِيئَةً ، وَأَمَّا رَكْعَتَاكَ بَعْدَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَ ذَلِكَ كَعِتْقِ سَبْعِينَ رَقَبَةً ، وَأَمَّا وُقُوفُكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَهْبِطُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ : عِبَادِي جَاءُونِي شُعْثًا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ جَنَّتِي ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكُمْ كَعَدَدِ الرَّمْلِ أَوْ كَقَطْرِ الْمَطَرِ أَوْ كَزَبَدِ الْبَحْرِ لَغَفَرَهَا - أَوْ لَغَفَرْتُهَا - أَفِيضُوا عِبَادِي مَغْفُورًا لَكُمْ وَلِمَنْ شَفَعْتُمْ لَهُ . وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ رَمَيْتَهَا كَبِيرَةٌ مِنَ الْمُوبِقَاتِ . وَأَمَّا نَحْرُكَ فَمَذْخُورٌ لَكَ عِنْدَ رَبِّكَ . وَأَمَّا حِلَاقُكَ رَأْسَكَ فَلَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَلَقْتَهَا حَسَنَةٌ وَتُمْحَى عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةٌ . وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّكَ تَطُوفُ وَلَا ذَنْبَ لَكَ يَأْتِي مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَ يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفِكَ فَيَقُولُ : اعْمَلْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں مسجد منی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے سلام کیا پھر ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ سے کچھ دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو ، تو میں تم دونوں کو یہ بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو اور اگر تم چاہو ، تو میں نہیں بتاتا ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بتایئے ثقفی شخص نے انصاری سے کہا: تم سوال کرو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتایئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میرے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ تمہارا اپنے گھر سے بیت الحرام کے قصد سے نکلنا اس کا تمہیں کیا اجر ملے گا طواف کے بعد دو رکعت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا صفا اور مروہ کے چکروں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں ان کا کیا اجر ملے گا عرفہ کی شام اپنے وقوف کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا جمرات کو تمہارے کنکریاں مارنے کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اپنی قربانی کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اپنے سر مونڈوانے کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا اور اس کے بعد بیت اللہ کے طواف افاضہ کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا ؟ اس شخص نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اسی بارے میں آپ سے پوچھنے کے لئے آیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے گھر سے نکلے اور تمہارا ارادہ بیت الحرام کی طرف جانے کا تھا تو تمہاری اونٹنی نے جو بھی پاؤں رکھا اور جو بھی پاؤں اٹھایا تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نیکی نوٹ کی اور تم سے برائی کو مٹا دیا جہاں تک طواف کے بعد کی دو رکعت کا تعلق ہے ، تو یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک صفا اور مروہ کی سعی کا تعلق ہے ، تو یہ ستر غلام آزاد کرنے کی مانند ہے جہاں تک عرفہ کی شام تمہارے وقوف کرنے کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور تم لوگوں کے حوالے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے میرے بندے میرے پاس بکھرے ہوئے بال لے کر دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں وہ میری جنت چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ بندوں سے مخاطب ہو کے فرماتا ہے ) اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں جتنے ہوں یا بارش کے قطروں جتنے ہوں یا سمندر کی جھاگ جتنے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں ان کی مغفرت کر دوں گا اے میرے بندو ! تم ایسے واپس جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہو اور اس کی بھی مغفرت ہو چکی ہو جس کی تم نے شفاعت کی ہو ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے ، تو ہر کنکری جو تم نے اسے ماری اس کے عوض میں ہلاک کرنے والا ایک کبیرہ گناہ ( معاف ہو جائے گا ) جہاں تک تمہارے قربانی کرنے کا تعلق ہے ، تو وہ تمہارے پروردگار کے پاس سنبھال کے رکھی جائے گی جہاں تک تمہارے اپنے سر کو مونڈوانے کا تعلق ہے ، تو سر مونڈواتے ہوئے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک نیکی ملے گی اور اس کے عوض میں تمہارے ایک گناہ کو مٹا دیا جائے گا جہاں تک اس کے بعد تمہارے بیت اللہ کا طواف کرنے کا تعلق ہے ، تو تم یوں طواف کرو گے کہ تمہارا کوئی گناہ نہیں ہو گا ایک فرشتہ آئے گا وہ اپنے دونوں ہاتھ تمہارے کندھے کے درمیان رکھے گا اور یہ کہے گا اب تم نئے سرے سے عمل کرو کیونکہ گزشتہ ( گناہوں ) کے حوالے سے تو تمہاری مغفرت ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔