مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ . باب: حج کے موقع پر خطبہ دینا
وَعَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ - وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قَالَتْ : - وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي تَدْعُونَ يَوْمَ الرَّوْسِ - قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ هَذَا أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ " . قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا ، أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا حَتَّى تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا فَلْيُبَلِّغْ أَقْصَاكُمْ أَدْنَاكُمْ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " . فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ نَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ سراء بنت نبھان رضی اللہ عنہا جو زمانہ جاہلیت میں گھر کی مالکن تھیں وہ بیان کرتی ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون سا دن ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں یہ وہ دن تھا جسے تم لوگ یوم الروس کہتے ہو لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے فرمایا : یہ ایام تشریق کا درمیانی دن ہے آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ مشعر حرام ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ہو سکتا ہے اس سال کے بعد میں تم لوگوں سے نہ مل پاؤں ، خبردار ! تمہاری جانیں تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرمت ہے اور یہ اس وقت تک رہے گا جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا خبردار جو قریب موجود ہے وہ دور موجود تک تبلیغ کر دے کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ( راوی خاتون بیان کرتی ہیں ) جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔