مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ . باب: حج کے موقع پر خطبہ دینا
وَعَنْ جَمْرَةَ بِنْتِ قُحَافَةَ قَالَتْ : كُنْتُ مَعَ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا أُمَّتَاهُ هَلْ بَلَّغْتُكُمْ ؟ " . فَقَالَ بُنَيٌّ لَهَا : يَا أُمَهُ مَا لَهُ يَدْعُو أُمَّهُ ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ : إِنَّمَا يَعْنِي أُمَّتَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ أَعْرَاضَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَازِبٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤سیده جمره بنت قحافہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں حجتہ الوداع کے موقع پر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے اُمت ! کیا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی ہے ؟ راوی خاتون کے ایک بچے نے ان سے دریافت کیا : اے امی جان ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا مراد لے رہے ہیں ؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو خطاب کر رہے ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : خبردار تمہاری عزتیں تمہارے اموال اور تمہاری جانیں ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں حرمت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عازب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔