مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ . باب: حج کے موقع پر خطبہ دینا
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ : كَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ مِنْ خِيَارِنَا . وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ : فَقَالَ مَوْلًى لَنَا : أَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ . فَلَمْ أَرَ رَجُلًا أَبْيَنَ ضَلَالًا مِنْهُ عِنْدِي . أَنَّهُ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعَ ، ثُمَّ قَتَلَ عَمَّارًا . ¤ رَوَاهُ بِتَمَامِهِ هَكَذَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ان سے ایک روایت میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہمارے بہترین افراد میں سے تھے اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے اور یہ بات زائد نقل کی ہے ہمارے غلام نے کہا: کون سا ہاتھ اس کی کفایت کر سکتا ہے ؟ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ گمراہ ہو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات بھی سنی ہوئی ہے اور پھر بھی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح مکمل روایت کے طور پر معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔