حدیث نمبر: 5643
وَعَنْ كُلْثُومِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ فَرَكِبْتُ يَوْمًا إِلَى الْحَجَّاجِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو غَادِيَةَ الْجُهَنِيُّ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : قُومُوا إِلَيْهِ فَأَنْزِلُوهُ . فَقُولُوا : الْآنَ يَرْجِعُ . فَخَرَجْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ : الْآنَ يَرْجِعُ . فَنَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِمَاءٍ فِي قَدَحِ زُجَاجٍ ، فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ فِي الزُّجَاجِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فِي قَدَحِ نِضَارٍ فَشَرِبَ ، فَقَالَ : بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَرُدُّ عَلَى أَهْلِي الْمَالَ . فَقَالَ لَهُ رَاشِدُ بْنُ أُنَيْفٍ وَكَانَ مَعَ عَبْدِ الْأَعْلَى - : بِيَمِينِكِ هَذِهِ ؟ فَانْتَهَرَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى وَقَالَ : أَفَبِشِمَالِهِ ؟ وَقَالَ : شَهِدْتُ خُطْبَتَهُ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمَ أُحِيطَ بِعُثْمَانَ سَمِعْتُ رَجُلًا ، وَهُوَ يَقُولُ : أَلَا يُقْتَلُ هَذَا ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارٌ فَلَوْلَا مَا كَانَ خَلْفَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَوَطِئْتُ بَطْنَهُ . فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ أَنْ تُلَقِّيَنِيهِ . ¤ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بَرَجُلٍ سِبْرٍ يَقُودُ كَتِيبَةً رَاجِلًا فَنَظَرْتُ إِلَى الدِّرْعِ فَانْكَشَفَ عَنْ رُكْبَتِهِ فَأَطْعَنُهُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارٌ . ¤
محمد محی الدین

کلثوم بن جبیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ عنبسہ بن سعید کے پاس موجود تھے ایک دن میں سوار ہو کر حجاج کے پاس گیا ایک صاحب ان کے پاس آئے جن کا نام سیدنا ابوغادیہ جہنی رضی اللہ عنہ تھا عبدالاعلیٰ بن عبداللہ نے ان سے کہا: تم لوگ اٹھ کر ان کی طرف جاؤ اور انہیں سواری سے نیچے اترواؤ اور تم یہ کہنا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جب وہ واپس آئیں گے ہم نکل کر ان کے پاس آئے ہم نے ان سے کہا: کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جب وہ واپس آئیں گے وہ سواری سے نیچے اترے اور عبدالاعلیٰ بن عبداللہ کے پاس آئے ۔ انہوں نے پینے کے لئے کچھ مانگا تو شیشے کے پیالے میں پانی لایا گیا انہوں نے شیشے میں پانی پینے سے انکار کر دیا پھر لکڑی کے پیالے میں پانی لایا گیا ، تو وہ انہوں نے پی لیا انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی تھی اور میں نے اپنے اہل خانہ کو مال واپس کر دیا تھا راشد بن انیس نامی ایک صاحب جو عبدالاعلیٰ کے ساتھ موجود تھے ۔ انہوں نے ان سے دریافت کیا : کیا آپ نے اپنے اس دائیں ہاتھ کے ذریعے بیعت کی تھی ؟ تو عبدالاعلیٰ نے انہیں ڈانٹا اور کہا: کیا انہوں نے بائیں ہاتھ کے ذریعے بیعت کرنی تھی ؟ ان صاحب نے یہ بات بیان کی کہ عقبہ کے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے میں موجود تھا آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک تمہاری جانیں اور تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں ہے خبردار تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو “ ۔ ( سیدنا ابوغادیہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بیان کی ) جب وہ دن آیا کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا گیا تو میں نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا اسے قتل نہیں کیا جائے گا جب میں نے دیکھا تو وہ عمار تھا اللہ کی قسم اگر اس کے پیچھے اس کے ساتھی نہ ہوتے تو میں نے اس کے پیٹ پر پاؤں رکھ دینا تھا اس وقت میں نے دعا کی اے اللہ ! اگر تو چاہے ، تو میری دوبارہ اس سے ملاقات کروانا پھر جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو میں نے ایک شخص کو دیکھا جو دیکھنے میں عمدہ ( یعنی نمایاں ) لگ رہا تھا ، اور ایک جنگی دستے کی قیادت کر رہا تھا میں نے اس کی زرہ کی طرف دیکھا ، جب اس نے اپنے گھٹنے سے ہٹایا ، تو میں نے اسے نیزہ مار دیا ، وہ ” عمار “ تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5643
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (362/20) اخرجه احمد فى المسند (76/4 و 68/5 مختصرا وابنه 76/4)»