حدیث نمبر: 5642
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَقُولُ : " هَذَا الْيَوْمُ حَرَامٌ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " فَإِنَّ حُرْمَتَكُمْ بَيْنَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكِمْ هَذَا . أُنْبِئُكُمْ مَنِ الْمُسْلِمُ ؟ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ . أُنْبِئُكُمْ مَنِ الْمُؤْمِنُ ؟ الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ . أُنْبِئُكُمْ مَنِ الْمُهَاجِرُ ؟ الْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَالْمُؤْمِنُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ لَحْمُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَأْكُلَهُ بِالْغَيْبِ وَيَغْتَابَهُ ، وَعِرْضُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَخْرِقَهُ ، وَوَجْهُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَلْطِمَهُ ، وَأَذَاهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يُؤْذِيَهُ ، وَعَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَدْفَعَهُ دَفْعًا يُتَعْتِعُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَرَامَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجتہ الوداع کے موقع پر ایام تشریق کے درمیانی دن میں خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : یہ حرمت والا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے درمیان تمہاری حرمت تمہارے اس دن کی حرمت کی مانند ہے میں تمہیں بتاتا ہوں مسلمان کون ہے ؟ مسلمان وہ ہے ، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں میں تمہیں بتاتا ہوں مومن کون ہے ؟ مومن وہ ہے ، جس سے مسلمان اپنی جانوں اور اموال کے حوالے سے محفوظ رہیں میں تمہیں بتاتا ہوں مہاجر کون ہے ؟ مہاجر وہ ہے ، جو برائیوں سے لاتعلق رہے وہ برائیاں جو اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام قرار دی ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لئے قابل احترام ہے ، جس طرح اس دن کی حرمت ہے اس کا گوشت دوسرے کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس کی غیر موجودگی میں غیبت کر کے اسے کھائے اور اس کی عزت دوسرے کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس کی خلاف ورزی کرے اس کا چہرہ دوسرے کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس پر طمانچہ مارے اسے اذیت دینا دوسرے پر حرام ہے کہ وہ اسے اذیت پہنچائے اور اس پر یہ بھی حرام ہے کہ وہ اسے یوں پرے کر دے کہ اسے مشقت کا شکار کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خاتون کرامہ بنت حسین ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5642
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (175/19)»