حدیث نمبر: 5641
وَعَنْ فَهْدِ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَزْرَقِ حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ عُمَرَ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ فَلَمَّا صِرْتُ بِالضَّرِيَّةِ قَالَ لِي بَعْضُ إِخْوَانِي : هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : صَاحِبُ الْقُبَّةِ الْمَضْرُوبَةِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا . فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي : قُومُوا بِنَا إِلَيْهِ . فَقُمْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى صَاحِبِ الْقُبَّةِ ، فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ السَّلَامَ فَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ ؟ قُلْنَا : قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، بَلَغَنَا أَنَّ لَكَ صُحْبَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدْتُ تَحْتَ مِنْبَرِهِ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ فَلَيْسَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ فَضْلٌ ، وَلَا لِعَجَمِيِّ عَلَى عَرَبِيٍّ فَضْلٌ ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَبْيَضَ فَضْلٌ ، وَلَا لِأَبْيَضَ عَلَى أَسْوَدَ فَضْلٌ ، إِلَّا بِالتَّقْوَى . يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَا تَجِيئُوا بِالدُّنْيَا تَحْمِلُونَهَا عَلَى رِقَابِكُمْ وَتَجِيءُ النَّاسُ بِالْآخِرَةِ فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " . قُلْنَا : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : أَنَا الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ فَارِسُ الضَّحْيَاءِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ هَذَا ضَعِيفٌ ، وَتَقَدَّمَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ فِي الدِّيَاتِ وَالْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین

فہد بن بختری بن شعیب بن عمرو بن ازرق بیان کرتے ہیں : شعیب بن عمر نے مجھے یہ بات بتائی ہے میں مکہ گیا جب میں ” ضریہ “ میں تھا تو میرے بعض ساتھیوں نے مجھ سے کہا: کیا تم ایسے صاحب سے ملنے میں دلچسپی رکھتے ہو جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس شخص نے کہا: فلاں جگہ پر جو خیمہ لگا ہوا ہے اس میں موجود فرد ( صحابی ہیں ) میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم لوگ ہمارے ساتھ اٹھ کر ان کی طرف چلو جب ہم اس خیمے کے پاس پہنچے تو ہم نے سلام کیا ان صاحب نے ہمیں سلام کا جواب دیا اور دریافت کیا : تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے کہا: ہمارا تعلق اہل بصرہ سے ہے ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں اور حجتہ الوداع کے دن میں آپ کے منبر کے نیچے بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے لوگو ! بے شک ہم نے تمہیں مذکر اور مؤنث سے پیدا کیا ہے اور تمہیں مختلف گروہوں اور قبائل میں بنایا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت حاصل کرو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ شخص ہے ، جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہو کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے اور کسی سفید فام کو سیاہ فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے البتہ تقویٰ ( کے حوالے سے فضیلت ہونے ) کا معاملہ مختلف ہے : اے قریش کے گروہ ایسا نہ ہو کہ تم دنیا اپنی گردنوں پر اٹھا کے لاؤ اور لوگ آخرت لے کے آ رہے ہوں میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے ( ان صاحب سے ) دریافت کیا : آپ کا کیا نام کا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا میں عداء بن خالد بن عمرو بن عامر ہوں جو زمانہ جاہلیت میں ضحیاء کا شہسوار تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے
یہ روایت ضعیف ہے اس سے پہلے عرفہ کے دن خطبہ دینے سے متعلق باب میں
یہ روایت صحیح سند کے ساتھ گزر چکی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احایث دیتوں اور فتنوں سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5641
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12/1813)»