مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ . باب: حج کے موقع پر خطبہ دینا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَّمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا ، فَأَصَابَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسًا فَذَبَحَهُ ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فَقَامَ تَحْتَ ثَدْيِ نَاقَتِهِ - وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا - فَقَالَ : " اصْرُخْ : أَيُّهَا النَّاسُ أَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . فَصَرَخَ فَقَالَ النَّاسُ : الشَّهْرُ الْحَرَامُ . فَقَالَ : " اصْرُخْ : أَتَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : الْبَلَدُ الْحَرَامُ . قَالَ : " اصْرُخْ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : الْحَجُّ الْأَكْبَرُ . فَقَالَ : " اصْرُخْ فَقُلْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا وَكَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا " . فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ وَقَالَ حِينَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ " . وَقَالَ حِينَ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں بکریاں تقسیم کیں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک بکرا آیا انہوں نے اسے ذبح کر لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں ٹھہرے تو آپ نے ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا وہ آپ کی اونٹنی کے نیچے کھڑے ہوئے وہ ایک بلند آواز والے شخص تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بلند آواز میں کہو : اے لوگو ! کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون سا مہینہ ہے ؟ انہوں نے بلند آواز میں یہ بات کہی تو لوگوں نے کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بلند آواز میں کہو : یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بلند آواز میں کہو کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : حج اکبر کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بلند آواز میں یہ کہو : اللہ کے رسول نے تمہاری جانیں اور تمہارے اموال تم پر اسی طرح حرام قرار دیے ہیں جس طرح تمہارے اس مہینے کی حرمت ہے اور جس طرح تمہارے اس شہر کی حرمت ہے اور جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج مکمل کر لیا جب آپ عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قزح میں وقوف کیا ہوا تھا تو آپ نے فرمایا : یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔