حدیث نمبر: 5634
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ رَبِيعَةُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ الْجُمَحِيُّ ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَصْرُخُ يَوْمَ عَرَفَةَ تَحْتَ لَبَّةِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْرُخْ " . وَكَانَ صَيِّتًا : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَتَدْرُونَ أَيَّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . فَصَرَخَ فَقَالُوا : نَعَمْ ، الشَّهْرُ الْحَرَامُ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ إِلَى أَنْ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ ، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا " . ثُمَّ قَالَ : " اصْرُخْ : هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . ¤ فَصَرَخَ فَقَالُوا : نَعَمْ ، الْبَلَدُ الْحَرَامُ . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ كَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا " . ثُمَّ قَالَ : " اصْرُخْ : أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . فَصَرَخَ فَقَالُوا : هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ ، وَهَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا - كَمَا تَرَاهُ - وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبادہ بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا ربیعہ بن امیہ بن خلف جمحی رضی اللہ عنہ صاحب ہیں کہ عرفہ کے دن جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی گردن کے نیچے کھڑے ہو کر بلند آواز میں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات کو دہرایا تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا بلند آواز میں کہو ان صاحب کی آواز بلند تھی ( انہوں نے یہ کہا: ) اے لوگو ! کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے ؟ انہوں نے بلند آواز میں یہ بات کہہ دی تو لوگوں نے کہا: جی ہاں ! یہ حرمت والا مہینہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں اور تمہارے اموال کو ایک دوسرے کے لئے قابل احترام قرار دے دیا ہے اور یہ اس وقت تک ہے جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے اور یہ تمہارے اس مہینے کی حرمت کی طرح ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم بلند آواز میں کہو کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے ؟ انہوں نے بلند آواز میں یہ بات دہرائی تو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یہ حرمت والا شہر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری جانیں تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں اور اس دن تک رہیں گے جب تک تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے اور وہ تمہارے اس شہر کی حرمت کی طرح ( قابل احترام ہیں ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بلند آواز میں پوچھو یہ کون سا دن ہے ؟ انہوں نے بلند آواز میں یہ بات کہی تو لوگوں نے عرض کی : یہ حج اکبر کا دن ہے راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں اور تمہارے اموال کو ایک دوسرے کے لئے قابل احترام قرار دیا ہے اور اس دن تک کے لئے قرار دیا ہے جب تم اس کی بارگاہ میں حاضر ہو گے جس طرح تمہارے اس دن کی حرمت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5634
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4603)»