مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ . باب: حج کے موقع پر خطبہ دینا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " أَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمُ ؟ " . قِيلَ : مَكَّةُ . قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ ؟ " . قِيلَ : ذُو الْحِجَّةِ . قَالَ : " فَأَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ ؟ " . قِيلَ : يَوْمُ النَّحْرِ ، وَهُوَ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ إِلَى أَنْ تَلْقُوا رَبَّكُمْ ; كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فَلَا أَرَى مِنَ الرَّأْيِ أَنْ يُهْرَاقَ فِي حَرَمِ اللَّهِ دَمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے ؟ عرض کی گئی مکہ آپ نے دریافت کیا : کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے ، عرض کی گئی ذوالحج آپ نے دریافت کیا : کون سا دن زیادہ حرمت والا ہے ؟ عرض کی گئی قربانی کا دن اور یہ حج اکبر کا دن ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری جانیں اور تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے اور یہ اس طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں قابل احترام ہے ، تو میں یہ نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں کوئی خون بہایا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرات بن احنف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔