حدیث نمبر: 5635
وَعَنْ حُجَيْرٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : شَهْرٌ حَرَامٌ . قَالَ : " أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا كَشَهْرِكُمْ هَذَا كَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا فَلْيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ مَخْشِيِّ بْنِ حُجَيْرٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حجیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا مہینہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خبردار تمہاری جانیں اور تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں حرمت ہے اور جس طرح تمہارے اس شہر کی حرمت ہے تم میں سے موجود فرد غیر موجود تک تبلیغ کر دے تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مخشی بن حجیر کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5635
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3572)»