مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ . باب: حج کے موقع پر خطبہ دینا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَقَالَ : ( إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ) ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک زمانہ اسی طرز پر چل رہا ہے جب اس دن تھا جب اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا اس نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالی کے نزدیک دنوں کی گنتی بارہ مہینے ہے ، جو اللہ کی کتاب میں طے شدہ ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یا راوی نے کہا: ) تین مہینے مسلسل ہیں اور ایک رجب مضر ہے ، جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔