مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ . باب: حج کے موقع پر خطبہ دینا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِمِنًى فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ، فَعَرَفَ أَنَّهُ الْمَوْتُ فَأَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ الْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ ، فَرَكِبَ فَوَقَفَ لِلنَّاسِ بِالْعَقَبَةِ ، وَاجْتَمَعَ لَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ . ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ ، فَإِنَّ كُلَّ دَمٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ هَدَرٌ ، وَإِنَّ أَوَّلَ دِمَائِكُمْ أُهْدِرُ دَمَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ ، وَكُلَّ رِبًا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ ، وَإِنَّ أَوَّلَ رِبَاكُمْ أَضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَإِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ : رَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ ، وَذُو الْقَعْدَةِ ، وَذُو الْحِجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمُ ( ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ ) ( إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ ) ، كَانُوا يُحِلُّونَ صَفَرَ عَامًا وَيُحَرِّمُونَ الْمُحَرَّمَ عَامًا ، فَذَلِكَ النَّسِيءُ . ¤ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ وَدِيعَةٌ فَلْيُؤَدِّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِبِلَادِكُمْ آخِرَ الزَّمَانِ ، وَقَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ ، فَاحْذَرُوا عَلَى دِينِكُمْ مُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ النِّسَاءَ عِنْدَكُمْ عَوَانٌ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ ، لَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقٌّ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقٌّ ، وَمِنْ حَقِّكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ غَيْرَكُمْ ، وَلَا يَعْصِينَكُمْ فِي مَعْرُوفٍ ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَلَيْسَ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلٌ وَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، فَإِنْ ضَرَبْتُمْ فَاضْرِبُوا ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ . ¤ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا : كِتَابَ اللَّهِ فَاعْمَلُوا بِهِ . ¤ أَيُّهَا النَّاسُ ، أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : يَوْمٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " . قَالُوا : شَهْرٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ ، كَحُرْمَةٍ هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الشَّهْرِ وَهَذَا الْبَلَدِ ، أَلَا لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ : لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ سورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ ایام تشریق کے درمیانے دن میں منی میں موجود تھے آپ کو اندازہ ہو گیا کہ اس میں موت کا پیغام ہے آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کے بارے میں حکم دیا اس پر پالان رکھا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور عقبہ کے پاس لوگوں کے سامنے ٹھہر گئے جتنا بھی مسلمانوں کے بارے میں اللہ کو منظور تھا وہ آپ کے ارد گرد اکھٹے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اما بعد ! اے لوگو ! زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والا ہر خون ( یعنی قتل کا مقدمہ ) کالعدم ہے اور تمہارے مقدمات میں سے جو سب سے پہلا مقدمہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث کے قتل کا ہے ، جو بنولیث میں دودھ پیتے بچے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں قتل کر دیا تھا اور زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے ہر سود کو معاف کیا جاتا ہے اور تمہارے سود میں سے سب سے پہلے جو چیز میں معاف کرتا ہوں وہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا سود ہے ( وہ سود جو انہوں نے لوگوں سے لینا ہے ) ۔ اے لوگو ! زمانہ اسی طرح چل رہا ہے ، جس طرح اس دن تھا جب جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا ہے شک مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں رجب مضر جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے ذوالقعدہ ذوالج اور محرم ، یہ مضبوط دین ہے ، تم ان مہینوں کے بارے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرنا ۔ ” بے شک ( حرمت والے مہینوں ) کو آگے پیچھے کر دینا ، صرف کفر میں اضافے کی وجہ سے ہے ۔ جس کے ذریعے وہ لوگ گمراہ ہو گئے جنہوں نے کفر کیا تھا وہ ایک سال اس کو حلال قرار دیتے ہیں اور ایک سال اسے حرام قرار دیتے ہیں تا کہ وہ اس چیز کی تعداد کو پورا کر دیں جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ لوگ صفر کے مہینے کو ایک سال حلال قرار دیتے تھے اور ایک سال محرم کو حرام قرار دیتے تھے تو یہ ادھار ہے ۔ اے لوگو ! جس شخص کے پاس کوئی ودیعت موجود ہو وہ اس کو اس شخص کو ادا کر دے جس نے اسے امین بنایا تھا ۔ اے لوگو ! بے شک شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہارے علاقے میں آخری زمانے تک اس کی عبادت کی جائے لیکن وہ تمہاری طرف سے حقیر عمل سے راضی ہو جائے گا تو تم اپنے دین کے حوالے سے حقیر اعمال سے احتیاط کرنا ۔ اے لوگو ! خواتین تمہارے پاس پابند ہیں تم نے اللہ تعالیٰ کی امانت کے حوالے سے انہیں حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے تمہارا ان پر حق ہے اور ان کا تم پر حق ہے تمہارا ان پر حق میں یہ بات شامل ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر تمہارے علاوہ کسی اور کو نہ آنے دیں اور بھلائی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہ کریں اگر وہ ایسا کر لیتی ہیں تو پھر تمہیں ان کے خلاف کوئی حق نہیں ہو گا اور انہیں ان کا رزق اور لباس مناسب طور پر دیا جائے گا اور اگر تم پٹائی کرتے ہو ، تو تم اس طرح پٹائی کرو جو نشان نہ لگائے ۔ کسی بھی شخص کے لئے اپنے بھائی کے مال میں سے کوئی چیز لینا حلال نہیں ہے البتہ وہ بھائی اپنی خوشی سے جو دے اس کا معاملہ مختلف ہے ۔ اے لوگو ! میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کے جا رہا ہوں کہ اگر تم وہ چیز مضبوطی سے تھام لو گے تو تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے وہ اللہ کی کتاب ہے ، تو تم اس پر عمل کرنا ۔ اے لوگو ! یہ کون سا دن ہے لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا دن ہے ۔ آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے ۔ آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا مہینہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں تمہارے مال اور تمہاری عزتوں کو اسی طرح قابل احترام قرار دیا ہے ، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں قابل احترام ہے خبردار تم میں سے موجود فرد غیر موجود فرد تک تبلیغ کر دے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہو گی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور یہ فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح اور دیگر کتابوں میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔