حدیث نمبر: 5586
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا قَالَ : انْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ ، فَأَتَى بِهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَإِذَا إِبْلِيسُ عَلَيْهَا ، فَأَمَرَهُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ فِي الْأَرْضِ ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى ، فَإِذَا هُوَ بِإِبْلِيسَ ، فَأَمَرَهُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، فَسَاخَ فِي الْأَرْضِ ، ثُمَّ أَتَى الثَّالِثَةَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ . ثُمَّ أَتَى جَمْعًا ، ثُمَّ لَبَّى مِنْ عَرَفَاتٍ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر گئے تاکہ انہیں مناسک دکھائیں وہ انہیں لے کر جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وہاں ابلیس موجود تھا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے ان سے کہا: تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا پھر وہ جمرہ وسطی کے پاس آئے تو وہاں بھی ابلیس موجود تھا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے انہیں کہا: تو انہوں نے سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا پھر وہ تیسرے جمرہ کے پاس آئے تو وہاں بھی ایسا کیا پھر وہ مزدلفہ آئے تو انہوں نے وہاں سے تلبیہ پڑھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ۔ ان کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5586
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12293)»