حدیث نمبر: 5574
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشَيِّعُهُ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِيَرْمُوا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شُعْبَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن انہیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ منی کی طرف بھیج دیا تھا تاکہ وہ صبح صادق کے ساتھ ہی جمرات کو کنکریاں مار لیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شعبہ ہے ، جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شعبہ ہے ، جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5575
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کتنی کنکریاں ماری تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5576
وَعَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عَمْرٍو - وَهُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ - قَالَ : حَجَجْتُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مُرْدِفِي عَمِّي سِنَانُ بْنُ سَنَّةَ ، قَالَ : فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَاتٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا إِحْدَى أُصْبُعَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ، فَقُلْتُ لِعَمِّي : مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : يَقُولُ : " ارْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حرملہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو ابوعبدالرحمن ہیں وہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر میں اپنے چچا سیدنا سنان بن سنہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر موجود تھا جب ہم نے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ایک انگلی دوسری پر رکھی ہوئی تھی میں نے اپنے چچا سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرما رہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا آپ فرما رہے ہیں : تم چٹکی میں آنے والی کنکریاں مارنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5577
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَعَمِّي مُرْدِفِي ، وَهُوَ وَاضِعٌ أُصْبُعَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، فَقُلْتُ : مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : يَقُولُ : " ارْمُوا الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، قَالَ : لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَيُّوبُ - يَعْنِي الْغَافِقِيَّ - وَرَوَاهُ النَّاسُ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ ، عَنْ أَسْلَمَ بْنِ خَارِجَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میرے چچا نے مجھے پیچھے بٹھایا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک انگلی دوسری پر رکھی ہوئی تھی میں نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرما رہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ جمرات کو ایسی کنکریاں مارو جو چٹکی میں آ جاتی ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں وہ فرماتے ہیں : اس سند کے ساتھ اس روایت کو صرف ایوب نے یعنی غافقی نے نقل کیا ہے لوگوں نے اسے ابن حرملہ کے حوالے سے یحیی بن ہند کے حوالے سے اسلم بن خارجہ سے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں وہ فرماتے ہیں : اس سند کے ساتھ اس روایت کو صرف ایوب نے یعنی غافقی نے نقل کیا ہے لوگوں نے اسے ابن حرملہ کے حوالے سے یحیی بن ہند کے حوالے سے اسلم بن خارجہ سے نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5578
وَعَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي - وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ يَوْمَ الْأَضْحَى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : يَقُولُ : " ارْمُوا الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر موجود تھا قربانی کے دن آپ اپنی اونٹنی عضباء پر موجود تھے لوگ آپ کے ارد گرد موجود تھے میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرما رہے ہیں : میرے والد نے بتایا آپ یہ فرما رہے ہیں تم چٹکی میں آنے والی کنکریاں مارنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5579
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ارْمُوا جَمَرَاتِ مُضَرَ " . وَكَانَتْ كُلُّ قَبِيلَةٍ تَرْمِي جَمْرَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مضر کے جمرات کو کنکریاں مارنا “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پہلے ہر قبیلہ مخصوص جمرہ کو کنکریاں مارا کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 5580
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْمِيَ الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم جمرات کو ایسی کنکریاں ماریں جو چٹکی میں آ جاتی ہوں یہ حجتہ الوداع کے موقع کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5581
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ أَطْوَلَ مِمَّا وَقَفَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهَا وَلَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے دوسرے جمرہ کے قریب پہلے جمرہ سے زیادہ طویل وقوف کیا تھا پھر آپ جمرہ عقبہ کے پاس آئے آپ نے اسے کنکریاں ماریں لیکن آپ اس کے پاس ٹھہرے نہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5582
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْمِي حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کنکریاں نہیں مارتے تھے جب تک سورج ڈھل نہیں جاتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5583
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : صَدَقُوا ; إِنِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى ، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتِ ، وَثَمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ فَقَالَ : يَا أَبَتِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرُهُ ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ : أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَتْبَعُ ذَلِكَ الضَّرْبَ مِنَ الْكِبَاشِ قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ . ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى مِنًى . قَالَ : هَذَا مِنًى . قَالَ يُونُسُ : هَذَا مُنَاخُ النَّاسِ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا فَقَالَ : هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ . ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ عَرَفْتَ ؟ - قَالَ يُونُسُ : هَلْ عَرَفْتَ ؟ - قَالَ : نَعَمْ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ . ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ ؟ قُلْتُ : وَكَيْفَ كَانَتْ ؟ قَالَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا ، وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ چیز سنت ہے انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے سچ کہا: ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب مناسک ادا کرنے کا حکم دیا گیا تو شیطان سعی کے ایک مقام پر ان کے سامنے آیا اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑ لگائی تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے نکل گئے پھر سیدنا جبرائیل عالی ہم انہیں ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے تو شیطان ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا پھر وہ درمیانی جمرہ کے پاس ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں وہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو لٹا دیا سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے جسم پر ایک سفید قمیص تھی ۔ انہوں نے کہا: اے ابا جان ! میرے پاس اور کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے ، جس میں آپ مجھے کفن دیں تو آپ اسے اتار دیں اور اس میں مجھے کفن دے دیجئے گا جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اسے اتارنے لگے تو ان کے پیچھے سے پکار کر کہا: گیا : اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچ کر دیا ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک سینگوں والا سفید رنگ کا سیاہ آنکھوں والا دنبہ موجود تھا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم اس قسم کے دنبے تلاش کیا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر جمرہ قصوی کی طرف گئے شیطان ان کے سامنے آیا انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا پھر سیدنا جبرائیل انہیں لے کر منی کی طرف گئے اور بولے : یہ منی ہے یونس بیان کرتے ہیں : یعنی لوگوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر وہ انہیں لے کر مزدلفہ آئے اور بولے : یہ مشعر حرام ہے پھر وہ انہیں لے کر عرفہ گئے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تم یہ بات جانتے ہو عرفہ کا یہ نام کیوں رکھا گیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا : کیا تم نے پہچان لیا ہے ( یہاں ایک لفظ یونس نامی راوی نے مختلف نقل کیا ہے ) سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفہ رکھا گیا ہے پھر انہوں نے فرمایا : کیا آپ جانتے ہیں تلبیہ کیسے ہوتا ہے میں نے جواب دیا وہ کیسا ہوتا تھا ؟ انہوں نے بتایا جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کریں تو تمام پہاڑ ان کے سامنے پست ہو گئے اور وادیاں کے سامنے بلند کر دی گئیں تو ان کے درمیان انہوں نے حج کا اعلان کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5584
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ، فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ : يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي ; لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحُ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي . فَشَدَّهُ ، فَلَمَّا أَحَدَّ الشَّفْرَةَ وَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ : أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا جبرائیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے شیطان ان کے سامنے آیا تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ ( زمین میں دھنس گیا ) پھر وہ درمیانی جمرہ کے پاس آئے تو شیطان ان کے سامنے آیا انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا پھر وہ جمرہ قصوی کے پاس آئے تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا ، تو ( یہاں متن میں یہی مذکور ہے لیکن درست یہ ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا ) تو انہوں نے اپنے والد سے کہا: اے میرے ابا جان جب آپ مجھے ذبح کرنے لگیں گے تو آپ مجھے باندھ دیجئے گا کیونکہ اگر میں تڑپ تو میرے خون کے چھینٹے آپ پر پڑیں گے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے انہیں باندھ دیا جب انہوں نے چھری تیز کی اور انہیں ذبح کرنے کا ارادہ کیا ، تو پیچھے سے انہیں یہ کہا: گیا : اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچا کر دیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 5585
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ ، فَانْفَرَجَ لَهُ ثُبَيْرٌ ، فَدَخَلَ مِنًى فَأَرَاهُ الْجِمَارَ ، ثُمَّ أَرَاهُ جَمْعًا ، وَأَرَاهُ عَرَفَاتٍ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ نَبَعَ لَهُ إِبْلِيسُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ، ثُمَّ نَبَغَ لَهُ حَتَّى ذَكَرَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَسَاخَ فَذَهَبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو مناسک دکھائیں ثبیر آپ کے سامنے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں داخل ہو گئے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرات دکھائے پھر آپ کو مزدلفہ دکھایا پھر آپ کو عرفات دکھایا جب آپ جمرہ کے پاس تھے تو شیطان ان کے سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا پھر وہ آپ کے سامنے آیا یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کا بھی ذکر کیا کہ وہ وہاں بھی وہ دھنس گیا اور پھر چلا گیا ۔
حدیث نمبر: 5586
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا قَالَ : انْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ ، فَأَتَى بِهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَإِذَا إِبْلِيسُ عَلَيْهَا ، فَأَمَرَهُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ فِي الْأَرْضِ ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى ، فَإِذَا هُوَ بِإِبْلِيسَ ، فَأَمَرَهُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، فَسَاخَ فِي الْأَرْضِ ، ثُمَّ أَتَى الثَّالِثَةَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ . ثُمَّ أَتَى جَمْعًا ، ثُمَّ لَبَّى مِنْ عَرَفَاتٍ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر گئے تاکہ انہیں مناسک دکھائیں وہ انہیں لے کر جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وہاں ابلیس موجود تھا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے ان سے کہا: تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا پھر وہ جمرہ وسطی کے پاس آئے تو وہاں بھی ابلیس موجود تھا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے انہیں کہا: تو انہوں نے سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا پھر وہ تیسرے جمرہ کے پاس آئے تو وہاں بھی ایسا کیا پھر وہ مزدلفہ آئے تو انہوں نے وہاں سے تلبیہ پڑھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ۔ ان کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 5587
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَمْيِ الْجِمَارِ : مَا لَنَا فِيهِ ؟ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " تَجِدُ ذَلِكَ عِنْدَ رَبِّكَ أَحْوَجَ مَا تَكُونُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمرات کو کنکریاں مارنے کے بارے میں دریافت کیا : ہمیں اس کا کیا ثواب ملے گا تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا “ تم اپنے پروردگار کے پاس انہیں اس وقت پاؤ گے جب تمہیں ان کی شدید ضرورت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5588
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَمَيْتَ الْجِمَارَ كَانَ لَكَ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم جمرات کو کنکریاں مارو گے تو قیامت کے دن یہ چیز تمہارے لئے نور ہو گی “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مولی توامہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مولی توامہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5589
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ الْجِمَارُ الَّتِي تُرْمَى كُلَّ سَنَةٍ ، فَنَحْسَبُ أَنَّهَا تَنْقُصُ ؟ فَقَالَ : " مَا يُقْبَلُ مِنْهَا رُفِعَ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ رَأَيْتُمُوهَا مِثْلَ الْجِبَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ التَّمِيمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ جمرات کا کیا معاملہ ہے انہیں ہر سال کنکریاں ماری جاتی ہیں تو ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ کم ہو جاتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے جو مقبول ہوتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پہاڑوں جتنی کنکریاں دیکھتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان تمیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان تمیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔