حدیث نمبر: 5585
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ ، فَانْفَرَجَ لَهُ ثُبَيْرٌ ، فَدَخَلَ مِنًى فَأَرَاهُ الْجِمَارَ ، ثُمَّ أَرَاهُ جَمْعًا ، وَأَرَاهُ عَرَفَاتٍ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ نَبَعَ لَهُ إِبْلِيسُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ، ثُمَّ نَبَغَ لَهُ حَتَّى ذَكَرَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَسَاخَ فَذَهَبَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو مناسک دکھائیں ثبیر آپ کے سامنے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں داخل ہو گئے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرات دکھائے پھر آپ کو مزدلفہ دکھایا پھر آپ کو عرفات دکھایا جب آپ جمرہ کے پاس تھے تو شیطان ان کے سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا پھر وہ آپ کے سامنے آیا یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کا بھی ذکر کیا کہ وہ وہاں بھی وہ دھنس گیا اور پھر چلا گیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12291)»