حدیث نمبر: 5587
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَمْيِ الْجِمَارِ : مَا لَنَا فِيهِ ؟ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " تَجِدُ ذَلِكَ عِنْدَ رَبِّكَ أَحْوَجَ مَا تَكُونُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمرات کو کنکریاں مارنے کے بارے میں دریافت کیا : ہمیں اس کا کیا ثواب ملے گا تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا “ تم اپنے پروردگار کے پاس انہیں اس وقت پاؤ گے جب تمہیں ان کی شدید ضرورت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5587
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13479)»