حدیث نمبر: 5584
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ، فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ : يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي ; لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحُ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي . فَشَدَّهُ ، فَلَمَّا أَحَدَّ الشَّفْرَةَ وَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ : أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا جبرائیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے شیطان ان کے سامنے آیا تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ ( زمین میں دھنس گیا ) پھر وہ درمیانی جمرہ کے پاس آئے تو شیطان ان کے سامنے آیا انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا پھر وہ جمرہ قصوی کے پاس آئے تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں تو وہ دھنس گیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا ، تو ( یہاں متن میں یہی مذکور ہے لیکن درست یہ ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا ) تو انہوں نے اپنے والد سے کہا: اے میرے ابا جان جب آپ مجھے ذبح کرنے لگیں گے تو آپ مجھے باندھ دیجئے گا کیونکہ اگر میں تڑپ تو میرے خون کے چھینٹے آپ پر پڑیں گے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے انہیں باندھ دیا جب انہوں نے چھری تیز کی اور انہیں ذبح کرنے کا ارادہ کیا ، تو پیچھے سے انہیں یہ کہا: گیا : اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچا کر دیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5584
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12292) اخرجه احمد فى المسند (2795)»