مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ رَمْيِ الْجِمَارِ . باب: جمرات کو کنکریاں مارنا
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : صَدَقُوا ; إِنِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى ، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتِ ، وَثَمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ فَقَالَ : يَا أَبَتِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرُهُ ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ : أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَتْبَعُ ذَلِكَ الضَّرْبَ مِنَ الْكِبَاشِ قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ . ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى مِنًى . قَالَ : هَذَا مِنًى . قَالَ يُونُسُ : هَذَا مُنَاخُ النَّاسِ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا فَقَالَ : هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ . ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ عَرَفْتَ ؟ - قَالَ يُونُسُ : هَلْ عَرَفْتَ ؟ - قَالَ : نَعَمْ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ . ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ ؟ قُلْتُ : وَكَيْفَ كَانَتْ ؟ قَالَ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا ، وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ چیز سنت ہے انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے سچ کہا: ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب مناسک ادا کرنے کا حکم دیا گیا تو شیطان سعی کے ایک مقام پر ان کے سامنے آیا اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑ لگائی تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے نکل گئے پھر سیدنا جبرائیل عالی ہم انہیں ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے تو شیطان ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا پھر وہ درمیانی جمرہ کے پاس ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں وہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو لٹا دیا سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے جسم پر ایک سفید قمیص تھی ۔ انہوں نے کہا: اے ابا جان ! میرے پاس اور کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے ، جس میں آپ مجھے کفن دیں تو آپ اسے اتار دیں اور اس میں مجھے کفن دے دیجئے گا جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اسے اتارنے لگے تو ان کے پیچھے سے پکار کر کہا: گیا : اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچ کر دیا ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک سینگوں والا سفید رنگ کا سیاہ آنکھوں والا دنبہ موجود تھا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم اس قسم کے دنبے تلاش کیا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر جمرہ قصوی کی طرف گئے شیطان ان کے سامنے آیا انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا پھر سیدنا جبرائیل انہیں لے کر منی کی طرف گئے اور بولے : یہ منی ہے یونس بیان کرتے ہیں : یعنی لوگوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر وہ انہیں لے کر مزدلفہ آئے اور بولے : یہ مشعر حرام ہے پھر وہ انہیں لے کر عرفہ گئے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تم یہ بات جانتے ہو عرفہ کا یہ نام کیوں رکھا گیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا : کیا تم نے پہچان لیا ہے ( یہاں ایک لفظ یونس نامی راوی نے مختلف نقل کیا ہے ) سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفہ رکھا گیا ہے پھر انہوں نے فرمایا : کیا آپ جانتے ہیں تلبیہ کیسے ہوتا ہے میں نے جواب دیا وہ کیسا ہوتا تھا ؟ انہوں نے بتایا جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے درمیان حج کا اعلان کریں تو تمام پہاڑ ان کے سامنے پست ہو گئے اور وادیاں کے سامنے بلند کر دی گئیں تو ان کے درمیان انہوں نے حج کا اعلان کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔