مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ . باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانہ ہونا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِلَيْكَ تَغْدُو قَلِقًا وَضِينُهَا مُخَالِفًا دِينَ النَّصَارَى دِينُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : وَهُمْ عِنْدِي أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ الْمَشْهُورُ فِي الرِّوَايَةِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِلَيْكَ تَعْدُو قَلِقًا وَضِينُهَا مُخَالِفًا دِينَ النَّصَارَى دِينُهَاسیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ یہ فرما رہے تھے : ” سنبھل کے ، یہ اس حال میں چل رہی ہے کہ یہ تھک چکی ہے ، اور اس کا دین عیسائیوں کے دین کے برخلاف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے امام طبرانی کہتے ہیں : میرے نزدیک اس روایت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ کرنے میں ابوربیع سمان نامی راوی کو وہم ہوا ہے کیونکہ مشہور روایت جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ آپ عرفات سے روانہ ہوئے تھے اس وقت آپ یہ کہہ رہے تھے : ” سنبھل کے ، یہ اس حال میں چل رہی ہے کہ یہ تھک چکی ہے ، اور اس کا دین عیسائیوں کے دین کے برخلاف ہے “ ۔