حدیث نمبر: 5564
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ; كَانُوا يَقِفُونَ حَافَّتَيِ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ ، فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ . قَالَ : وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَئِ نَاقَتِهِ لَتَمَسُّ حَارِكَهَا ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ . يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تیز رفتاری سے چلنے کا آغاز دیہاتیوں نے کیا تھا وہ لوگوں کے دونوں طرف وقوف کیے ہوئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ترکش اور بڑے پیالے لٹکائے ہوئے تھے ، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو بھگدڑ مچ گئی لوگ بھی روانہ ہو گئے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا گیا کہ آپ کی اونٹنی کا کان گردن کو چھو رہا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! آرام سے چلو ! اے لوگو ! آرام سے چلو !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11355) اخرجه احمد فى المسند (2193)»