حدیث نمبر: 5566
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَةَ . فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَقَفَ - يَعْنِي عُثْمَانَ - فَلَمَّا أَسْفَرَ قَالَ : - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - إِنْ أَصَابَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ دَفَعَ الْآنَ . فَمَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى دَفَعَ عُثْمَانُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عرفات سے روانہ ہوا جب وہ مزدلفہ آئے تو انہوں نے یعنی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وقوف کیا جب صبح ہو گئی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر امیر المؤمنین اب روانہ ہو جائیں تو وہ ٹھیک کام کریں گے ابھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5566
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح