حدیث نمبر: 5563
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ . قَالَ : فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ قُلْنَا : غَابَتِ الشَّمْسُ ؟ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ كَانَ قَدْ أَصَابَ . قَالَ : فَلَا أَدْرِي كَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : فَأَوْضَعَ النَّاسُ ، وَلَمْ يَرِدِ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ ، حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حج کیا راوی کہتے ہیں : جب ہم نے وقوف عرفہ کیا ہوا تھا تو ہم نے دریافت کیا : کیا سورج غروب ہو گیا ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضٰ اللہ عنہ نے فرمایا اگر امیر المؤمنین اس وقت روانہ ہو جائیں تو پھر وہ ٹھیک کریں گے راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کلمہ زیادہ جلدی تھا یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی زیادہ جلدی تھی راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اپنی سواریوں کو تیز کیا لیکن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ درمیانی رفتار سے چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آ گئے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3893)»