مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي طَالِبِ الْعِلْمِ وَإِظْهَارِ الْبِشْرِ لَهُ . باب: طالب علم کا بیان اور اس کے لئے خوشخبری کا اظہار
حدیث نمبر: 551
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكَ وَلَا أَجْفُوكَ ، وَأَنْ أُدْنِيكَ وَلَا أُقْصِيَكَ ، فَحَقٌّ عَلَيَّ أَنَّ أُعَلِّمَكَ ، وَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ تَعِيَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَعَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ رَافِضِيٌّ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں تعلیم دوں اور تمہارے ساتھ جفا نہ کروں ، تمہیں قریب رکھوں ، تمہیں دور نہ کروں ، تو اب مجھ پر یہ لازم ہے کہ میں تمہیں تعلیم دوں اور تم پر یہ لازم ہے کہ تم اُسے محفوظ رکھنا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، جبکہ ایک راوی عباد بن یعقوب ، رافضی ہے ۔