حدیث نمبر: 550
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ مُتَّكِئٌ عَلَى بُرْدٍ لَهُ أَحْمَرَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ ، فَقَالَ : " مَرْحَبًا بِطَالِبِ الْعِلْمِ ، إِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ لَتَحُفُّهُ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا ، ثُمَّ يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا مِنْ مَحَبَّتِهِمْ لِمَا يَطْلُبُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ ، غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت مسجد میں اپنی سرخ چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں علم حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علم کے طلبگار کو خوش آمدید ! علم حاصل کرنے والے کے لیے فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور ( ان فرشتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے ) کہ وہ ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں ( طالب علم ) جو ( علم ) طلب کرتا ہے ، اُس ( علم ) سے ان فرشتوں کی محبت کی وجہ سے ، وہ ایسا کرتے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ، ان صحابی سے ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ( لیکن اُس کا بنیادی مضمون یہی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔