مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي طَالِبِ الْعِلْمِ وَإِظْهَارِ الْبِشْرِ لَهُ . باب: طالب علم کا بیان اور اس کے لئے خوشخبری کا اظہار
حدیث نمبر: 549
عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَا يُحَدِّثُ حَدِيثًا إِلَّا تَبَسَّمَ فِيهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُحَمِّقَكَ النَّاسُ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ إِلَّا تَبَسَّمَ فِيهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤محمد محی الدین
سیده ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی بات کرتے تھے ، تو اس دوران مسکراتے رہتے تھے ، میں نے اُن سے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ آپ کو احمق قرار نہ دیں ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی بات کرتے تھے ، تو اس دوران مسکراتے رہتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن عمرو ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔